کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈومستعفی


51 سالہ جسٹن ٹروڈوقریبا دس سال وزارت عظٰمی کے منصب پر فائز رہے


ٹورنٹو:کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اپنے عہدے سے مستعفٰی ہو گئے ہیں ان کے استعفیٰ کی وجہ ملک میں جاری سیاسی بحران کو بیان کیا جاتا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں لبرل پارٹی کی جانب سے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے ساتھ ہی وہ آفس چھوڑ دیں گے۔
سنہ 2015 سے وزارت عظمی کے منصب پر فائز جسٹن ٹروڈو نے اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے ساتھ ہی میں پارٹی لیڈر اور وزیراعظم کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں جب پارٹی نئے قائد ایوان کا انتخاب کر دے گی۔
یاد رہے کہ کینیڈا میں طویل عرصے سے سیاسی بحران چل رہا ہے جس کے بعد جسٹن ٹروڈو نے لبرل پارٹی کی اعلی قیادت کے زور دینے پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ جسٹن ٹروڈو نگراں وزیراعظم کے طور پر کتنا عرصہ کام جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے لبرل قائدِ ایوان کا انتخاب ایک سخت اور ملک گیر مقابلے پر مبنی عمل ہو گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جسٹن ٹروڈو امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد تک کینیڈا کی قیادت کرتے رہیں گے اور نئی امریکی انتظامیہ سے ممکنہ تجارتی جنگ سمیت ابتدائی معاملات کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام کینیڈین درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے ممکنہ طور پر کینیڈا کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ جسٹن ٹروڈو نے اس حوالے جوابی وار کا عزم کیا تھا۔53 سالہ جسٹن ٹروڈو 2013 میں لبرل پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے قبل بھی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے۔ان کے نمایاں ترین سیاسی حوالوں میں ایک یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ کینیڈا کے مقبول ترین وزیراعظم پیئر ایلیٹ ٹروڈو کے بیٹے ہیں۔باپ کے بعد وہ خود بھی کینیڈا کے ایک مقبول وزیراعظم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔