مالکوں کا مخمصہ
اظہر سید
بظاہر مالکوں نے دیوار پر لکھی تحریر پڑھ لی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ سابقہ غلطیاں درست کرنے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ خوارج یا طالبان کے خلاف گزشتہ چھ ماہ میں جس یکسوئی کے ساتھ کاروائیاں جاری ہیں گزشتہ چالیس سال میں نہیں کی گئیں ۔جتنے خارجی چھ ماہ میں مارے ہیں چالیس سال میں نہیں مارے ۔
کرم ایجنسی میں محصورین کے تیسرے قافلے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے لیکن امن معاہدے کی واضح خلاف ورزیوں کے باوجود مالکوں نے یہاں "آپریشن” کا آغاز نہیں کیا۔ صرف سات روز کے دوران چار سو سے زیادہ طالبعلموں کو مارا گیا ہے لیکن کرم ایجنسی میں کاروائی نہ کرنے کا مطلب ہے مالکان کسی تنازعہ کا شکار نہیں ہونا چاہتے اور اپنی جاری مہم کو فرقہ واریت کے الزام سے بچانا چاہتے ہیں۔
مالکوں کا مخمصہ ہے کرم میں کاروائی سے طالبعلموں کو فرقہ ورانہ ایج حاصل ہو جائے گی اور یہ بات قابل قبول نہیں ۔ کرم کے شرپسند اسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
امریکہ میں صدر ٹرمپ کے آنے سے دنیا کا نقشے تبدیل ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں ۔موٹی موٹی باتیں جو نظر آتی ہیں امریکی اپنی توجہ چین کے روڈ رولر کے طرح بڑھتے ہوئے خطرہ کو روکنے پر لگا رہے ہیں۔ تائیوان میں اچانک چین مخالف مہم شروع کر دی گئی ہے ۔فلپائن میں چین کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی تیاریاں ہیں ۔روس کی یوکرائن جنگ سے خلاصی کروا کر چین سے دور کرنے کی کوشش ہے ۔بھارت کو چین کے خلاف مرکزی حیثیت دینے کی تیاریاں پوری دنیا کو نظر آرہی ہیں۔
اس ساری صورتحال میں پاکستان امریکہ ،چین اور بھارت تینوں کی نظر میں بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔
پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔پاکستان جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کا حامل ملک ہے ۔پاکستان کے پاس جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ایک بڑی پروفیشنل فوج موجود ہے ۔
مالکوں کا مخمصہ یہ ہے انفراسٹرکچر میں امریکی اثر رسوخ بہت زیادہ ہے ۔اس اثر و رسوخ کا ایک پول جنرل شاہد نے کتاب”یہ خاموشی کب تک” لکھ کر کھولا تھا اور اپنی جان گنوا کر قیمت ادا کی تھی کہ آج تک پتہ نہیں جنرل شاہد کہاں غائب ہو گئے یا کر دئے گئے ۔
امریکی اثر رسوخ کا مقابلہ صرف چین آف کمانڈ کے تقدس سے ممکن ہے ۔یہ چین آف کمانڈ ایسا جادو ہے بھلے ستر فیصد فوجی الگ سوچ رکھتے ہوں لیکن جس طرف چیف دیکھے گا ساری فوج اسی طرف دیکھے گی ۔یہ چین آف کمانڈ کا جادو ہے چیف اسلم بیگ عراق جنگ کے دوران صدر صدام حسین کی حمایت کرتا تھا اور امریکی کچھ نہیں کر پائے ۔
چین کو گھیرنے کے ساتھ پاکستان کو بھی گھیرا جا رہا ہے ۔جس شدت اور تسلسل کے ساتھ افغانستان سے خوارج ہر روز پاکستان بھیجے جا رہے ہیں ۔جس منظم انداز میں بلوچ عسکریت پسندوں اور خوارج کے مختلف ناموں کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے ۔جس طرح عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط ،یورپین یونین کی ٹیکسٹائل کوٹہ کو مشروط کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کل امریکی بھی کھل کر سامنے آئیں گے ۔
مالکان کو شائد صورتحال کا ادراک ہو چلا ہے ۔جس شدت سے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش ہے اسی شدت سے خوارج کے خلاف زنبیل میں موجود سارے آلات استعمال کئے جا رہے ہیں۔
اسرائیل جو ڈرون غزہ میں استعمال کر رہا تھا اس سے بہتر ٹیکنالوجی کے ڈرون خارجیوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی ڈرونز کی ستر فیصد کاروائی دن کی روشنی میں ہوتی تھی جبکہ پاکستانی ڈرون ستر فیصد کاروائیاں رات کو کرتا ہے اور بہت بلندی سے نقل و حمل کی جانچ کر لیتا ہے ۔
جیل میں بند نوسر باز بھی افغان سرزمین استعمال کرنے والے خارجیوں،بلوچ عسکریت پسندوں اور عالمی مالیاتی فنڈ کی طرح چین مخالف امریکیوں کا ایک ہتھیار ہے . چینیوں کو بھی مخالف قوت کے ہتھیاروں کی پوری طرح خبر ہے ۔جس طرح امریکیوں نے سٹنگر میزائل دے کر افغانستان میں بازی پلٹی تھی چینیوں نے ڈرون دے کر خارجیوں کے زریعے افراتفری پیدا کرنے کی بازی پلٹ دی ہے ۔
معاشی محاذ پر فنڈ شرائط ،بلوچ عسکریت پسندوں کی فعالیت ،خارجیوں کے بار بار حملے اور جیل میں بند نوسر باز کی بار بار حمائت کا اعادہ محاذ گرم ہونے کی علامتیں ہیں ۔
بھارت کو چینی انگیج کر لیں گے ۔امریکی قرضے اس قدر زیادہ ہو چکے ہیں چینی امریکی بانڈز میں مزید خریداری کیلئے قیمت میں اضافہ کی شرائط رکھیں گے ۔نئے اندرونی قرضوں کے حصول کیلئے بھی امریکیوں کو قیمت یعنی شرح سود بڑھانے پڑے گی ۔جو کچھ چل رہا ہے اس کا نتیجہ ایک خوفناک عالمی جنگ کی صورت میں نکلے گا ۔اس جنگ کے نتیجے میں ہی دہلی کے لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرایا جا سکے گا تاہم اگر بھارت پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوا تو دہلی کے لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانے کا عمل موخر کر دیا جائے گا ۔
مالکان تیزی کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی حمائت سے پالتو اور افراتفری کے خواہاں ججوں کا مکو 26 ویں آئینی ترامیم کے زریعے ٹھپ دیا گیا ہے ۔پیکا ایکٹ کی آگ پر چھڑی گرم کی جا رہی ہے جس سے ملک کے اندر نوسر باز کے حمایتوں کی دم کاٹی جائے گی ۔صرف بیرون ملک بیٹھے سائبر سیلوں کے جعلی اکاؤنٹس چلانے والے بچیں گے باقی سارے "پھڑے جان گے”


