چھ وکٹوں سے شکست ،پاکستان نے اہم میچ میں‌بھارت سے ہارنے کی روایت قائم رکھی


پاکستانی بیٹرز ون ڈے کو ٹیسٹ سمجھ کر کھیلتے رہے پھر بھی ٹیم پچاس اور پورے نہ کھیل سکی
اہم میچ میں بیٹنگ چلی نہ بولنگ فیلڈرز نے بھی مایوس کیا بھارت نے تمام شعبوں میں پاکستان کو کلین بولڈ کر دیا
پاکستانی بیٹرز نے جی بھر کے ڈآٹ بال کلیں تو بولرز نے جی بھر کے رنز دئےآئوٹ آف فارم کوہلی نے سنچری بنا کر فارم حاصل کر لی
فائنل کھیلنے کے لئے پاکستانی امیدیں اگر مگر سے جڑ گئیں شائقین کرکٹ کے دل ٹوٹ گئے سخت مایوسی اور غصے کا شکار


دبئی :پاکستان اور بھارت ک درمیان کھیلے جانے والے اہم میچ میں بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دےفائنل کی دوڑ سے قریبا باہر کر دیا ہے .میچ مکمل طور پر یک طرفہ رہا، پاکستان کی بیٹنگ چلی نہ لولنگ،فیلڈرز نے بھی مایوس کیا.بھارت نے تمام شعبوں میں پاکستان کو کلین بولڈ کر دیا .بیٹرز ٹیسٹ سمجھ کر کھیلتے رہے لیکن ٹیم پھر بھی پچاس اور نہ کھیل سکی.بھارت کی فتح میں کوہلی کی سنچری نے اہم کردار ادا کیا.پاکستانی بیٹرز نے اگرجی بھر کے ڈاٹ بال کھیلیں توبولرز نے جی بھر کے رنز دئے.ناقص بولنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئےآئوٹ آف فارم کوہلی نے فارم حاصل کر لی . کوہلی کی سنچری کی بدولت بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی
پاکستان کی پوری ٹیم 49 اعشاریہ 4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی 242 رنز کا ہدف بھارت نے 43 اوور میں 4 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا۔
قبل ازیں دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کی اننگز
پاکسانی ٹیم بھار ت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 49 اعشاریہ 4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔پاکستان کو پہلا نقصان 41 رنز پر بابر اعظم کی صورت میں اٹھانا پڑا جو 23 رنز بناکر ہاردک پانڈیا کی گیند کا شکار بنے، اس کے بعد امام الحق 10 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔محمد رضوان 46 رنزبناکرآؤٹ ہوئے جبکہ سعود شکیل 62 رنزبناکر پویلین لوٹے، طیب طاہر 4 اور سلمان علی آغا 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ان کے بعد آنے والے شاہین آفریدی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، نسیم شاہ نے 14 رنز کی اننگز کھیلی، خوشدل شاہ نے 38 اور حارث رؤف نے 8 رنز بنائے۔
بھارت کی جانب سے کلدیپ یادیو نے 3، ہاردک پانڈیا نے 2 ، ہرشیت رانا، اکثر پٹیل اور جدیجا نے ایک ایک وکٹ لی۔
بھارتی اننگز
بھارت کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان روہت شرما تھے جنہیں شاہین آفریدی نے بولڈ کیا، روہت شرما 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد شبمن گل 46 رنز بنا کر ابرار کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔شریاس ایئر 56 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوئے، انہیں خوشدل شاہ نے آؤٹ کیا۔ ہاردیک پانڈیا 8 رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
اس موقع پر ویرات کوہلی وکٹ پر جمے رہے اور ون ڈے کریئر کی 51 ویں سنچری اسکور کی، انہوں نے 111 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے۔ شاندار بلے بازی پر انہیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔اس طرح بھارت نے 242 رنز کا ہدف 43 اوور میں 4 وکٹ کے نقصان پرباآسانی پورا کرلیا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے 2، ابرار اور خوشدل شاہ نے ایک ایک وکٹ لی۔
پاکستان کی امیدیں اگر مگر سے جڑ گئیں
خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا افتتاحی میچ ہار چکا ہے جب کہ بھارتی ٹیم کو افغانستان کے خلاف کامیابی ملی تھی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا ہے، لیکن یہ اب بھی ناممکن نہیں۔ نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف دو لگاتار شکستوں کے بعد پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے امیدیں اب صرف اگر مگر کے تکنیکی امکان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ تاہم اس کے لیے باقی میچز کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا۔پاکستان کو اب اپنا اگلا میچ 27 فروری کو بنگلا دیش کے خلاف راولپنڈی میں بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ کو اپنے دونوں میچز میں بھاری مارجن سے ہارنا ہوگا، تب ہی پاکستان کی ٹیم ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کا موقع حاصل کر سکتی ہے۔
پیر کو نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے درمیان راولپنڈی میں ہونیوالا مقابلہ پاکستانی فینز کےلیے اہم ہوگا۔ اگر نیوزی لینڈ یہ میچ جیت جاتا ہے یا میچ بارش کی وجہ سے واش آؤٹ ہو جاتا ہے تو پاکستان کی ٹیم آفیشلی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گی لیکن اگر بنگلا دیش یہ میچ جیت جاتا ہے تو پاکستان کی امیدیں برقرار رہیں گی۔
پاکستان اور بنگلا دیش کا میچ 27 فروری کو راولپنڈی میں کھیلا جائےگا جب کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ 2 مارچ کو شیڈول ہے۔ پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے امیدیں بظاہر کم ہیں لیکن کرکٹ کے کھیل میں کچھ بھی اس وقت ناممکن نہیں جب تک اس کے ہونے کا امکان مکمل طور پر رد نہیں ہوجاتا.
تاہم بقول شاعر
امید کی کرن کے سوا کچھ نہیں‌ہے یہاں
اس گھر میں روشنی کا بس یہی انتظام ہے