انٹارک ٹیکا کا راز جسے کوئی نہ پاسکا

برفانی دیوار کے دوسری طرف درجہ حرات مائنس 55 تک پہنچ جاتا ہے
اندرونی علاقے مکمل اندھیرے میں ڈوبے ہیں آکسیجن کی مقدار بھی نہ ہونے کے برابر
تمام تر انسانی ترقی کے باوجود برفانی دیوار کے دوسری طرف صرف چند سو کلومیٹر تک رسائی ممکن ہو سکی ہے
شدید سردی میں جیٹ طیاروں‌کا ایندھن جم جاتا ہے ہوائوں کی رفتار 300کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے،انسانی بے بسی واضح

اسلام آباد:انٹارکٹیکا، دنیا کی سب سے سرد اور جنوبی براعظم، تقریباً 40 فیصد حصہ ایک دیوار نما برفانی گلیشیر پر مشتمل ہے جو زمین کے تمام سمندروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
یہ برفانی دیوار کسی خیالی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ حقیقت ہے، اور اس کا ذکر 1880 سے موجود مختلف ممالک کے سرکاری تحقیقی دستاویزات میں کیا گیا ہے۔
برفانی دیوار کے اس پار موسم کی شدت ناقابل تصور ہے:اوسط درجہ حرارت -55 ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے۔ہواؤں کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔اندرونی علاقے مکمل اندھیرے میں ڈوبے ہوتے ہیں، اور آکسیجن کی مقدار بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
سرکاری جغرافیائی تحقیق میں یہ پایا گیا کہ برفانی دیوار کے بعد کا علاقہ تقریباً 400 سے 500 کلومیٹر تک ہی دریافت کیا جا سکا۔ اس کے بعد انسانی ترقی کی تمام تر ٹیکنالوجی ناکام ہو گئی، یہاں تک کہ جیٹ طیاروں کا ایندھن بھی اس سخت سردی میں جم جاتا ہے۔