
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم آٹھ سال کے وقفے کے بعد میچ کھیلنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہے۔ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ کے لیے تیاریاں مکمل جبکہ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
اتوار کی شام سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کا آخری میچ کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سری لنکا کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز میں پاکستان نے کلین سویپ کیا جبکہ ٹی ٹوینٹی میں اُسے دو صفر سے برتری حاصل ہے۔
دونوں ٹیمیں ہفتہ کی رات گئے لاہور پہنچیں جہاں سخت سکیورٹی میں انھیں ہوٹل لے جایا گیا۔
لاہور پہنچنے پر سری لنکا کے کپتان تھیسارا پریرا نے کہا کہ وہ دوبارہ پاکستان آنے پر بہت خوش ہیں جبکہ پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے پاکستان آنے پر سری لنکا کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور شائقینِ کرکٹ سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ سری لنکن ٹیم کی بھی بھرپور حمایت کریں۔
پاکستان میں طویل عرصے کے بعد انٹرنیشنل میچ کے انعقاد پر شائقین میں بہت جوش و خروش ہے۔ میچ سے قبل افتتاحی تقریب ہو گئی جبکہ میچ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے شروع ہو گا۔
انٹرنیشنل میچ کے انعقاد پر لاہور کو خوب سجایا گیا ہے جبکہ سٹیڈیم کے اطراف میں سری لنکا کی مقامی زبان سنہالا میں بینرز لگائے گئے ہیں جن پر مہمان ٹیم کے لیے خصوصی پیغامات درج ہیں۔
پاکسان کرکٹ بورڈ کے میڈیا مینیجر کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہونے والا پاکستان اور سری لنکا کا یہ میچ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں کرکٹ کی مکمل بحالی لے لیے سری لنکا کا یہ دورہ انتہائی اہم ہے۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ سری لنکا کے بعد ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کو بھی پاکستان مدعو کر رہا ہے۔
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے پاکستان پہنچنے کے بعد شائقین کرکٹ اپنے ملک میں سٹار کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔
پاکستان میں کرکٹ کے شائقین بین الاقوامی کرکٹ میچ کے انعقاد پر بہت خوش ہیں۔
میچ کے انعقاد کے اعلان کے فوری بعد ٹکٹیں فروخت ہو گئی تھیں۔ سٹیڈیم کے اطراف میں پاکستان اور سری لنکا کی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کی تصاویریں آویزاں ہیں۔
کرکٹ میچ کے انعقاد کے لیے لاہور میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ سٹیڈیم کے اطراف کا علاقہ ٹریفک کے لیے بند ہے اور شہر بھر میں ٹریفک کی روانی کے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔
شائقین کو مقررہ وقت کے اندر اندر سٹیڈیم میں داخل ہونے دیا جائے گا جس کے بعد سٹیڈیم کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ میچ دیکھنے کے لیے آنے والوں کو پارکنگ کے لیے مختص جگہ سے قذافی سٹیڈیم تک شٹل سروس کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
میچ کے پر امن انعقاد کے لیے 11 ہزار سکیورٹی اہلکارتعینات ہیں جبکہ سٹیڈیم کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔




