مصالحتی مرکز کی تین عدالتوں میں مقدمات کی شرح نہ ہونے کے برابر

لاہور …نورالعارفین.

عوام میں آگاہی کا فقدان یا وکلاء کی عدم دلچسپی ، مصالحتی مرکز کی تین عدالتوں میں مقدمات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ، سائلین کہتے ہیں کہ مصالحتی مرکز سے متعلق آگاہی نہیں دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق عوام کو جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے سیشن کورٹ جوڈی کے کمپلیکس میں مصالحتی مرکز بنایا گیا۔
سات مارچ کو ایک عدالت نے کام شروع کیا تو مقدمات کی تعداد بڑھ گئی جس کے پیش نظرعدالتوں کی تعداد تین کر دی گئی۔ عدالتی بڑھیں تو مقدمات کم ہوگئے ، سائلین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے آگاہی نہیں دی گئی ، بہت سے لوگوں کو مصالحتی مرکز کا پتہ ہی نہیں۔ مصالحتی مرکز میں مقدمات زیادہ تر سول اور صارف عدالت سے بھجوائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وکلاء یہ نہیں چاہتے کہ لوگ مصالحتی مرکز میں جائیں ، وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کے ذمہ دار نہیں ، سائلین کو ہی آگاہی نہیں ۔ مصالحتی مرکز میں سات مارچ سے اکتیس اکتوبر تک پچپن فیصلے ہوئے ، 75 مقدمات عدم دلچسپی کے باعث واپس ہوگئے ، صدر بار تنویر اختر کا کہنا ہے کہ فریقین کے اپنے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔ مصالحتی مرکز مقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے اچھی کاوش ہے لیکن متعلقہ انتظامیہ کو اس معاملے میں سوچ بچار کرنا ہوگا ، یہ نظام کس طرح مکمل کامیاب ہوگا۔