q
اسلام آباد ….رورل سرکل کے تھانوں کی حدود میں ڈکیتی جیسی ورداتوں کا بار بار سر ذد ہونا پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ایس پی رورل ایک عرصہ سے تعینات ہیں ایس پی رورل سمیت ڈی ایس پیز کے تبادلے کیے جاہیں اگرتبادلے نہ کیے گئے تو ہم ایس پی رورل کے آفس کے باہر احتجاج کریں گئے چیرمین یونین کونسل مغل عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک بار پھر تھانہ کورال کی حدود پنڈملکاں میں ہونے والی ڈکیتی کی ورادت پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب تک رورل سرکل پولیس کے افسران کی پراپرٹی کے کیسوں میں دلچسپی ختم نہیں کریں گئے اس وقت تک عوام اسی طرح سرعام بے رحم ڈکیتوں کے ہاتھوں دن دیہاڑے لوٹتی رہے گی ڈکیتی کا بار بار سر ذد ہونا پھر ملزمان کا نہ پکڑا جانا رورل سرکل کے پولیس افسران کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے عادل عزیز قاضی کا کہنا تھا کہ ایس پی رورل سرکل تنویر مصطفی اور ڈی ایس پیز حضرات ایک عرصہ سے تعینات ہیں شہری ڈکیتوں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں جس روڈپر گزشتہ روز ڈکیتی کی وردات سرزد ہوئی اسی سڑک پر رواں سال ایک غریب بیوپاری قادر نامی کو دوران مذامت ڈکیتوں نے مار دیا تھا اس وقت بھی مقتول کی نعش دوگھنٹے تک سڑک پر پڑی رہی لیکن پولیس تھانے کے ایس ایچ اوز ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے تاحال اسکے قاتلوں بھی گرفتار نہیں کیا چیرمین یونین کونسل مغل عادل عزیز قاضی نے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ رورل سرکل کے ایس پی سمیت ڈی ایس پیز کو فوری تبدیل کیا جائے اگر ایکشن نہ لیا گیا تو رواں ماہ ہی ہم ایس پی رورل سرکل کورال کے باہر ایک احتجاج کریں گئے جو انکو تبدیل کرنے تک جاری رہے گاانکا کہنا تھا بہت جلد میں وزیر داخلہ تک یہ معاملہ لیکر جارہا ہوں عوام کو اس طرح خوف وہراس میں نہیں دیکھا جاسکتا




