نواز شریف لندن سے اسلام آباد پہنچ گئے

سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے لئے لندن سے اسلام آباد پہنچ گئے ،جہاں سے وہ ایپرن سے ہی اپنی ذاتی گاڑی میں اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس روانہ ہوگئے۔

نیب ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی کی ٹیم کو اسلام آباد ایئرپورٹ آنے سے روک دیا گیا ہے،جس کے بعد نیب ٹیم کو پنجاب ہاؤس سے سمن کی تعمیل کروانے کی ہدایت کر دی گئی ۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ نیب ٹیم کو ڈی جی نیب راولپنڈی کی ہدایت پر ایئرپورٹ آنے سے روکا گیا ہے۔اس سے قبل 10رکنی نیب ٹیم نے اسلام آباد ایئرپورٹ حکام سے جہاز تک رسائی کی درخواست کی تھی۔

نوازشریف کے طیارے نے 8 بجکر 15 منٹ پر اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کیا، اس موقع پر راجہ ظفر، الحق، سعد رفیق، مشاہد اللہ خان، چوہدری تنویر، طارق اور میئر اسلام آباد شیخ انصر سمیت دیگر رہنماؤں نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

اسلام آباد ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں،نیب حکام زیادہ سے زیادہ سمن کی تعمیل کرائیں گے، جبکہ آصف کرمانی کے کہ ہم اپنا فرض پورا کرنے آئے ہیں نیب والے اپنا کریں گے۔

نواز شریف کی آمدسے قبل ایئر پورٹ پر موجود مئیر اسلام آباد شیخ انصر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ میاں نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیےگئے ہیں ،تاہم ان کی گرفتاری کا امکان نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ حسین اور حسن نوازکا نیب ریفرنسزمیں پیش نہ ہونے کا فیصلہ اپنا ہے۔

روانگی سے قبل لندن میں سابق وزیر اعظم نوازشریف سے اس حوالے سے صحافیوں نے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی چیزیں پہلے بھی دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ انھیں طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں بھی 27 سال کی سزا ہوئی تھی، وہ سزا کس قانون کے تحت دی گئی تھی؟ ایک سیکنڈ میں منتخب وزیراعظم کو ہائی جیکر بنادیا گیا تھا۔