
ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز امیر نے کہا ہے کہ2017میں پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید متاثرہ ملکوں میں پہلے نمبر پر ہے چونکہ پہلے 7ملکوں کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں اگر ان سب کو اکٹھا بھی کر لیا جائے توان کی آبادی کراچی سے بھی کم بنتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نےمقامی ہوٹل میں ’ ماحولیاتی تنزلی اور موسمیاتی تبدیلی …کراچی کے مخصوص تناظر میں‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جسے موسمیاتی تبدیلی سے مختلف اقسام کے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، کراچی کی بہت تیزی سے بڑھتی آبادی کے باعث کراچی میں فضائی، شور اور آبی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ مسائل مزید سنگین ہوتے جارہے ہیں، حالیہ برسوں میں ہیٹ ویوز، سیلابی صورتحال اور سمندر کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر پرویز امیرنے کہا کہ اس وقت پنجاب کو اسموگ کا سامنا ہے حب اور تھرپارکر میں کوئلے سے چلنے والے پلانٹ کے آپریشنل ہونے کے بعد کراچی کو بھی پنجاب جیسی صورتحال کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ہائیڈرنٹس کے ذریعے شہریوں کو پانی کی فروخت ایک پرکشش کاروبار بن چکا ہے، ماحولیاتی تنزل اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سانس کی بیماریوں، ہر قسم کے کینسر، بلند فشار خون اور ذیابیطس کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔
ڈاکٹر پرویز نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی میں پائے جانے والی ہر قسم کی آلودگی کو ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں،ساحلی پٹی گوادر کی طرز پر 5یا6نئے شہر آباد کیے جائیں تاکہ کراچی سے آبادی کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔
سیکریٹری ماحولیات بقا اللہ انڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کی 50فیصد آبادی غیر منظم علاقوں اور کچی آبادیوں میں زندگی گزارتی ہے، جہاں پانی اور نکاسی آب کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔
سینیٹر حسیب اے خان نے اپنے خطاب میں تذکرہ کیا کہ پارلیمنٹ کی ترجیحات کچھ اور ہیں، میں نے کبھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں کوئی بات ماحولیات کے حوالے سے نہیں سنی۔




