پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے یورپی خود اس کے سپورٹر

پاکستان مین دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کی سپورٹ کرنے پر پاکستان سوئٹزر لینڈ حکومت سے احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق

جنیوا میں رواں ماہ کے آغاز میں متعدد مقامات اور بسوں اور دیگر گاڑیوں پر ایسے پوسٹر آوازیں کیے گئے تھے جن پر بلوچستان کی آزادی اور پاکستان میں اقلیتوں سے مبینہ طور پر ناروا سلوک کے بارے میں نعرے درج تھے۔

اس سلسلے میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے چھ ستمبر کو اپنے سوئس ہم منصب بھیجے گئے ایک مراسلے میں اس اشتہاری مہم کو پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔

تاہم سوئس حکام کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر کو اسلام آباد میں تعینات سوئس سفیر کو طلب کیا اور ایک بار پھر جنیوا میں ‘پاکستان مخالف’ تشہیری مہم پر احتجاج کیا۔

پیر کی شب پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنیوا میں پاکستان مخالف پوسٹرز اور پاکستان کے خلاف رقم دے کر چلائی گئی مہم پر سوئٹزلینڈ کے نامزد سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دہشت گرد تنظیم کو جو پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہے سوئس حکام کی جانب سے اپنی سرزمین کو استعمال کرنے دینے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق سوئس سفیر کو ’باور کروایا گیا کہ جنیوا میں لگے پوسٹرز کو ایک دہشت گرد تنظیم نے سپانسر کیا جسے پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک نے کالعدم قرار دیا ہوا ہے۔‘

دفتر خارجہ نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے اپنی زمین کو استعمال ہونے دینا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اکستان نے سوئس حکومت نے مزید کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ اس شرانگیز مہم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر نے سوئس ہم منصب کو مراسلہ بھیج کر اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ چھ ستمبر کو سوئس حکام کو بھجوائے گئے اپنے مراسلے میں جنیوا میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے کہا تھا کہ ‘بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ‘آزاد بلوچستان’ کا نعرہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پر حملہ ہے’۔

احتجاجی مراسلے میں کہا گیا تھا کہ ‘ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ ‘برطانیہ اور امریکہ میں بی ایل اے کے کئی نمائندے دہشت گرد قرار دیے جا چکے ہیں اور یہ کالعدم دہشت گرد تنظیم، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے۔’

پاکستانی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ ‘کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد بچوں، خواتین، مسیحی برادری اور شیعہ آبادی کے قاتل ہیں اور دہشت گردوں کی جانب سے سوئس سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے’۔

پاکستانی سفیر کے بھیجے گئے احتجاجی مراسلے کے مطابق ‘اقوام متحدہ کا دفتر رکھنے والے پرامن شہر جنیوا میں دہشت گرد سرگرمیاں تشویش کا باعث ہیں جبکہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کے لیے جنیوا کا استعمال کیا’۔

اپنے مراسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے پاکستان دشمن عزائم کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے، لہٰذا سوئٹزرلینڈ حکومت پوری قوت اور سنجیدگی سے ان اشتہاروں کے معاملے سے نمٹے، جنیوا شہر کے حکام کو کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کرکے آئندہ ایسا ہونے سے روکا جائے’۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ‘کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں اور اشتہاری کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مشن اور سفارت کاروں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے’۔