قربانیوں کے جواب میں امریکا کا نیا تحفہ، پاکستان کا نام مذہبی آزادیوں پر قدغن لگانے والے ممالک کی فہرست میں شامل

امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جہاں مبینہ طور پر مذہبی آزادیوں کی یا تو سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے یا مذہبی آزادیاں پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔

امریکہ کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ سنہ 1998 کے بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت بنائی گئی اس فہرست میں جن ممالک کے نام شامل ہیں ان میں برما، چین ارٹیریا، ایران، شمالی کوریا، سوڈان، سعودی عرب، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا کہ مذہبی آزادیاں محدود ہونے والے ملکوں کی فہرست میں پاکستان کے نام کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دنیا بھر میں بہت سی جگہوں پر لوگوں کو ان کے مذہب اور عقائد کی وجہ سے جبر، تشدد اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا کہ آج بھی دنیا کے کئی ملکوں میں حکومتیں مذہب تبدیل کرنے یا اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرنے یا کسی مخصوصی طریقے سے عبادت کرنے کی آزادیوں کو پامال کرتی ہیں۔

مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت ہر سال سیکریٹری آف سٹیٹ ان ملکوں کی نشاندھی کرتے ہیں جہاں مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اس کی اجازت اور سرپرستی کی جاتی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مذہبی آزادیاں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے لازمی ہیں۔

اس بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ امریکہ ان ملکوں کے ساتھ تعاون اور کام کرتا رہے گا جو اپنے معاشروں میں مذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں شدید کشیدگی کا شکار ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کی حکومت پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔