راولپندی اسلام آباد میٹرو بس منصوبے پر 55 ارب خرچ ہو گئے، 2 ارب کی بسیں نہ خریدی گئیں

محمد عارف شاہین

اسلام آباد …………. راولپندی اسلام آباد میٹرو بس منصوبے پر 55 ارب روپے خرچ کر دیے گئے، لیکن 2 ارب روپے کی بسیں نہ خریدی گئیں، کرائے پر حاصل کی گئی بسوں کے عوض تین  برس کے دوران ساڑھے 5ارب روپے کرایہ ادا کیا جا چکا ہے، جبکہ بسوں کی کل قیمت 2 ارب روپے بنتی ہے۔ ترکی کی البراک کمپنی  سے معاہدے کے تحت   بس آپریشن کے لئے  حکومت پاکستان نے 360 روپے فی کلو میٹر اد ا کنے تھے  جبکہ کمنی کو  ہر بس  کی 70 ہزار کلو میٹر کی گارنٹی دی گئی ہے۔  جس کے تحت بسیں  کھڑی بھی رہیں تو حکومت پاکستان  سالانہ  1 ارب 71 کروڑ روپے ادا کرنے کی پا بند ہے۔اسلام ٓآباد مٰن میٹرو بس کے لئے پارکنگ ایریا بھی بغیر کسی چارجز کے   غیر ملکی کمپنی کو  دے دیا گیا ہے۔حکومت نے ترکی  کی اہم  کاروباری  شخصیت کو فائدہ دینے  کے لئے اس طرح کا  معاہدہ کیا۔  راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس کا  سالانہ خسارہ  دو ارب روپے ہے جس  کا ایک ارب سی ڈی اے اور ایک ارب  پنجاب حکومت نے ادا کرنا ہے۔  تفصیلات کے مطابق   نواز   حکومت نے  اپنے اقتدار کے آ غاز مٰیں  راولپنڈی اسلام ٓآبا د کے درمیان میٹرو  بس سروس  پر کام کا آغاز کر دیا تھا  جس کے تحت  پہلے مرحلے میں 22.5 کلو میٹر کے ٹریک  پر کام  کا آغاز ہوا  جس کا ٓآغاز راولپنڈی صدر سے ہوا  اور فیض آباد تک  اوور ہیڈ ٹریک  بنایا گیا  جبکہ  فیض آباد سے  سیکریٹیریٹ تک  سڑک کے درمیان ٹریک بنایا گیا  اس منصوبے پر رات دن کام کر کے اس کو  4 جون 2015 کو عوام کے لئے کھول دیا گیا تھا  اس منصوبے کے انفراسٹرکچر پر  55 ارب روپے سے زائد کے اخراجات کیئے گئے   مگر بد قسمتی کی  بات یہ ہے کہ  میٹرو بس کے نام بننے والے  ٹریک  کے پلوں  اور ٹریک پر تو 55 ارب روپے لگا دئے گئے مگر جس بس  کے لئے 55 ارب سے زائد کی رقم خرچ کی گئی   وہ بس اس منصوبے کا حصہہ ہی نہیں  بلکہ  میٹرو بس مین چلنے والی بسیں  ترک کمپنی البراک سے کرائے پر حاصل کی گئی ہیں۔جس نے  چائنا کی کمپنی سے سن ون بس خریدی  اس منصوبے کے لئے 68 بسیں خریدی  گئیں  جس کی فی بس قیمت 3 کروڑ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ اور اسطرح  ان بسوں کی  کل مالیت 2 ار ب 4 کرور بنتی ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ وزیر اعلی پنجاب  نے  میگا منصوبے پر بھاری خرچہ کرنے کے بعد  بسو ں کی خریداری کو غیر ضروری سبمجھا ۔  ذرائع نے بتا یا ہے اس منصوبے کے تحت   ترک کمپنی  البراک  کے ساتھ راولپنڈی تا  سیتریٹیریٹ   بس آپریشن کا دس سال  معاہدا کیا گیا ہے جس کے تحت  ترک کمپنی نے   چائنا کی  بسیں خرید کر چلائی ہیں  ۔ ابتدائی  طور پر 68 بسین خریدی گئی ہیں  حکومت پاکستان نے اس اپریشن کے بدلے 360 روپے فی کلو میٹر  ادا کرنے ہیں  جبکہ یہ نرخ  پٹرول کی قیمت سے لنک ہیں اگر پیٹرول اوپ جائے گا تو  نرخ بھی اوپر چلے جائن گے۔ جون 2015 مٰیں پٹرول 77 روپے فی لیٹر   تھا جبکہ آج 98 روپے فی لیٹر ہے اس لحاظ سے   اب ریت مزید برھ چکے ہون گے ۔ میٹرو بس کو عام لوگ ابھی تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ  یہ بسین حکومت  پاکستان کی ملکیت ہٰین مگر  ان کے لئے یہ بات کسی  شاک سے کم نہیں  ہوگا کہ میٹرو ٹریک پر چلنے والی بسین پاکستانیون کی نہیں ہے بلکہ  یہ ترک کمپنی کی ہیں   ترک کمپنی سے ہونے والے معا ہدے کے تحت اگر  بس چلے یا نہ چلے  حکومت پاکستان 70ہزار کلومیٹر کی ادائیگی کرے گی اس رقم سے کمپنی نے  صرف ڈرائیور کی تنخواہ اور فیول کا خرچ ادا  کرنا ہے۔ میٹرو  بس کے آپریشن میں  اسوقت کئی  دیگر  کنٹریکٹ شامل ہیں جن میں ٹکٹونکے سسٹم کا تھیکہ اس کے علاوہ ہے جبکہ  صفائی اور  لفٹس کا الگ سے ٹھیکہ ہے۔ اسی طرح  آٹو میٹک گیٹ کھولنے کا  تھیکہ  الگ دیا گیاہے ان تمام  ٹھیکوں کی ادائگیون کے بعد   اسوقت  میٹرو بس سالانہ 2 ارب روپے کے خسارے پر چل رہی ہے۔ اس خسارے  کو پورا کرنے کے لئے  ایک ارب سی ڈی اے اور ایک ارب پنجاب حکومت ادا  کرتی ہے۔ میٹرو بس کا اغاز ہوئے  تین سال کا عرصہ گذرنے کو ہے  اور اس مدت میں حکومت  5 ارب سے زائد صرف بس آپریشن کی مد میں ادا  کر چکی ہے  حالانکہ ان بسون کی مالیت 2 ارب بنتی ہے اگر اس وقت 2 ارب کی بسین خرید لی جاتیں تو     استعمال اور کمی کے بعد بھی ان کو نیلام کرکے  ملکی خزانے مین اچھی خاصی رقم ا  ٓٓ سکےی ےھی۔یٹرو  بس کے کئی سٹیشن ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہٰن۔ جن کی مرمت کے لئے کوئی فنڈز موجود نہٰن ہیں۔ تفصیلات کے مطابق میٹرو بس کے ٹریک  اور سٹیشنز کی مرمت  کے لئے دو سال تک تو  بنانے والی کمپنیوںکی زمہ داری تھی مگر تیسرے سال سےیہ کام میٹرو بس  اتھارٹٰی نے کرنی تھی  اس وقت پشاور موڑ میٹرو سٹیشن  پر  جگہ جگہ سے ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہےکئی جگہ سے ٹائلین ب ھی اکھڑ چکی ہئین۔ جن کی مرمت کے لئے کوئی  انتظٓم موجود نہٰن ہے۔میٹرو بس پارکنگ ٹرمینل کے لئے  سیکٹر ایچ 9 مٰیں سی ڈی اے سے جگہ لے کر دی گئی ہے جس کے بدلے  سی ڈی اے کو کسی قسم کی  اڈائیگی  نہٰن کی گئی  اس وقت سی ڈی اے انتظامیہ بھی  اپنی جگہ کے بدلے معاضہ مانگنے کی  کی تیاری کر ہے ہیں  ۔ کیونکہ استعمال ہونے والی جگہ حکومت کی بجائے نجی کمپنی استعما کر رہی ہے۔