مجھے کیوں پیدا کیا، بھارت میں نو جوان والدین کے خلاف عدالت جانے کو تیار

انڈیا کے 27 سالہ نوجوان نے اپنے والدین کے خلاف اسے بغیر اجازت پیدا کرنے پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے رافیل سیموئیل نے  کہا کہ والدین کا بچے پیدا کرنے بالکل غلط عمل ہے کیونکہ پھر ان بچوں کو زندگی بھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیدا ہونے سے پہلے پیدا کرنی اجازت تو نہیں لی جا سکتی لیکن پھر بھی وہ مصر تھے کہ ‘پیدا ہونے کا فیصلہ ہمارا نہیں تھا ‘ اور کیونکہ ہم اپنی مرضی کے بغیر پیدا ہوئے ہیں تو ہمیں زندگی گزارنے کے لیے پیسے دیے جائیں۔‘

کسی بھی خاندان میں اگر اس قسم کی باتیں کی جائیں تو لڑائی ہو سکتی ہے لیکن رافیل سیموئیل کے والدین نے اسے مذاق میں لیا ہے اور رافیل کے کہنا ہے کہ ان کے اپنے والدین سے اچھے روابط ہیں۔

رافیل سیموئیل کے والدین وکیل ہیں اور ان کی ماں کویتا کرناد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہمیں اپنے بیٹے کی ہمت پر ناز ہے کہ اس نے ہمیں عدالت لے جانے کی دھمکی دی یہ بات جانتے ہوئے کہ ہم دونوں وکیل ہیں۔ اگر وہ کوئی جائز اور ذہانت بھرا نکتے پیش کریں گے تو میں اپنی غلطی مان لوں گی۔’

رافیل سیموئیل کہتے ہیں کہ انسانی زندگی کا اگر خاتمہ ہو جائے تو یہ زمین کے لیے بہت سودمند ثابت ہوگا۔

‘انسانی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اتنے لوگ تکلیف میں ہیں۔ اگر ہم یہاں نہ ہوں تو زمین کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جانور خوش ہوں گے۔ اور کیونکہ کوئی انسان ہی نہیں ہوگا تو کسی کو تکلیف بھی نہیں ہوگی۔’