دونوں لڑکیوں کے خاندانوں نے ملزم کو معاف کردیا،عدالت نے ملزم ابوذر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)اسلام آباد میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوعمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والی 2 لڑکیوں کے خاندانوں نے ملزم ابوذر کو معاف کر دیا ہے۔ جس کے بعد سیشن عدالت نے ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں گرفتار ملزم ابوذرکو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت کے سامنے متاثرہ خاندانوں نے ملزم کو معاف کردیا، متاثرہ فیملیز کے بیان کے بعد ملزم ابو ذر کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ایک لڑکی کابھائی عدالت میں بیان دینے آیا تھا اور والدہ کا آن لائن بیان ریکارڈکیاگیا۔ دوسری جاں بحق لڑکی کے والد کا بیان عدالت میں ریکارڈ کیا گیا۔صلح ہونے کے بعد عدالت نے ملزم ابو ذر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یا د رہے کہ اسلام آباد کے سیکریٹریٹ چوک میں پیر کی شب ایک المناک حادثہ پیش آیا تھا جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس کے نوعمر بیٹے نے اپنی لینڈ کروزر گاڑی سکوٹی پر سوار دو نوجوان لڑکیوں پر چڑھا دی تھی جس سے ان کی جان چلی گئی۔حادثہ اس وقت پیش آیا جب سفید رنگ کی لینڈ کروزر نے تیز رفتاری کے ساتھ ایک اسکوٹی کو ٹکر ماری۔ گاڑی چلانے والا نوجوان 16 سالہ ابوذر بتایا گیا، جو اسلام آباد ہائیک ورٹ کے جج کا بیٹا ہے۔حادثے میں جاں بحق خواتین کی شناخت ثمرین اور تابندہ کے نام سے ہوئی تھی جب کہ واقعے کا مقدمہ جاں بحق لڑکی ثمرین کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم ابوذر نے بیان دیا کہ حادثے کے وقت وہ اسنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا اور واقعے کے بعد اس نے اپنا موبائل فون کہیں پھینک دیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ کم عمر ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ منگل کو عدالت نے 16 سالہ ابوذر کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر تے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ چار روز کے دوران جسٹس صاحب نے اپنا اثرو رسوخ اور پیسہ استعمال کرتے ہوئے معاملہ حل کر لیا اور بیٹے کو چھڑا لیا۔




