جنرل فیض حمید کو سزا بڑا نہیں بہت بڑا فیصلہ

اس سزا پر کیا فوج عدلیہ اور سیاست میں ان کی باقیات سہم جائیں گے؟
جنرل فیض حمید کو سزاء کے بعد اس کا کھرا جنرل باجوہ اور عدلیہ تک بھی جا سکتا ہے؟
فیض حمید اور جنرل باجوہ کی بوئے کاٹنوں کی فصل قوم برسوں کا ٹے گی ، وزیر دفاع
عمران اور فیض دونوں اپنے وقت کے بڑے فرعون تھے،آج دونوں مکافات عمل کا شکار ہیں، بلاول
وزاء کے بیانات اور تجزیوںکو دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنرل فیض کے بعد ان کے سہولت کاروں کی باری دور نہیں

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)سابق ڈی جی سی سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمیدکا کورٹ مارشل اور 14 سال قید بامشقت کی سزاء ملکی اور فوجی تاریخ میں ایک بڑا نہیں بلکہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔ملکی اور فوجی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو ان کے جرائم پر سزا ہوئی ہے ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ یہ ان کے جرائم کی سزاء کی ابتداء ہے ابھی ان پر مزید کئی الزامات پر ٹرائل جاری ہے اور ان کی سزا میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس سزا ء سے ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کیا اس سز ا سے فوج عدلیہ اور سیاست میں ان کی باقیات سہم جائیں گی۔
اس بات پر بھی تبصرے جاری ہیں کہ کیا جنرل فیض حمید کو سزاء کے بعد اس کا کھرا سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ تک بھی جاسکتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل باجوہ کی چھتری کے بغیر جنرل فیض حمید اس حد تک کھل کر نہیںکھیل سکتے تھے۔ اگر یہ کھر ا جنرل باجوہ تک گیا تو فوج ،سیاست اور عدلیہ میں ان کی باقیات ہمیشہ کیلئے دم توڑ جائیں گی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کا آخری حصہ بڑا اہم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر انتشار اور عدم استحکام پھیلانے سمیت دیگر معاملات میں مداخلت کے پہلو علیحدہ طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔اس سے لگتا ہے کہ فیض حمید کی یہ سزاء آخری اور حتمی نہیں ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور ان کے سہولت کاروں کی بھی جلد یا بدیر باری آسکتی ہے۔ اگر اس کا کھراء فوج کے بعد عدلیہ اور سیاست کی طرف چل نکلا تو بہت بڑے بڑے نام بے نقاب ہوں گے۔ اگر اس کا کھرا فوج اور عدلیہ کی طرف نکلا تو عدلیہ کے فرعون بھی پکڑ میں آسکتے ہیں۔ثاقب نثار ، لطیف کھوسہ ، اعجاز عظمت ، اعجاز الاحسن جیسے ریٹائر ججوںکے ساتھ ساتھ کچھ حاضر سروس بھی زد میں آسکتے ہیں اس طرح منہ زور عدلیہ کو بھی لگام ڈل جائے گی۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور مختلف سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس سزا پر آنے والے ردِعمل میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ نوازشریف، صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف خود بھی مختلف مواقع پر جنرل فیض حمید کے ساتھ ساتھ جنرل باجوہ کا نام لے چکے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ آگے چلتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اگلا نمبر جنرل باجودہ کا ہی ہو۔
خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ قوم برسوں فیض حمید صاحب اور جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی۔ اللہ ہمیں معاف کرے، طاقت اور اقتدار کو اللہ کی عطا سمجھ کر اس کی مخلوق کے لیے استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ خوف خدا حکمرانوں کا شیوہ بنے۔
جیو نیوز کے پروگرام ‘ آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں کبھی آرمی چیف لگانے کے حکومتی اختیار کو چیلنج نہیں کیا گیا تھالیکن جنرل باجوہ نے فیلڈ مارشل کی تعیناتی رکوانے کے لیے دبا ڈالا اور دھمکیاں دیں، جنرل باجوہ نے پہلے فیض حمید کو چیف بنوانے کی کوشش کی بعد میں دیگرنام لائے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات فیض حمید اور پی ٹی آئی کا مشترکہ منصوبہ تھا، 9 مئی کے واقعات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعیناتی پلٹانے کا منصوبہ تھا۔9 مئی کا واقعہ بانی پی ٹی آئی تنہا نہیں کرسکتے تھے، فیض حمید کیخلاف مزید مقدمات بننے کی گنجائش ہے، فیض حمید کے رابطے تھے اور ریٹائرمنٹ کے باوجود نبض ان کے ہاتھ میں تھی۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے سہولت کاروں اور ان سے فیض یاب ہونے والوں کا ٹرائل ہونا ہے اور ان سب کے فیصلے آنے ہیں۔ جس نے آئین کا مذاق اڑایا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، ان سب کا احتساب ہوگا اور سزا بھی ملے گی۔ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے فیصل واوڈا نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید اب بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف گواہی دینے جارہے ہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے تو شائید یہ عمران خان اور تحریک انصاف کے تابوت میںآخری کیل ہوگی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھاکہ آج فوج نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ سب کو احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آج کی سزا کے بعد ثاقب نثار ہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملیگی۔انہوں نے کہاکہ اس فیصلے کے بعد ہماری عدلیہ کو بھی چاہیے کہ تیزی سے انصاف کے تقاضے پورے کرے، 9 مئی کے فیصلے کب ہوں گے کیا قیامت والے دن ہوں گے؟
طلال چوہدری سے سوال کیا گیا کہ کیا جنرل باجوہ بھی اس گروپ کا حصہ تھے؟ اور کیا انہیں بھی سزا ملی چاہیے؟ اس پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ اس ادارے نے ایک تگڑا احتساب کرکے بتا دیا ہے وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے، کوئی کتنا ہی طاقتور عہدہ پر رہا ہو، کوئی غیر آئینی غیرقانونی کام کرے گا تو اسے سامنا کرنا پڑیگا، وہ ادارہ جسے کہتے تھے کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، اس نے آج ایک مثال قائم کی ہے، باقی کب کریں گے؟