انسانی جسم کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے رفع حاجت کا کون سا انداز بہترین انتخاب ہوگا
امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق اس بحث کا سائنسی جواب فراہم کرتی ہے
جب مقعد صحیح زاویے پر ہوتا ہے تو پاخانہ زیادہ آسانی سے باہر نکلتا ہے اور یہ پوزیشن انڈین سیٹ میں بنتی ہے
یہ احساس کہ پاخانہ مکمل طور پر نہیں نکلا ان لوگوں میں زیادہ عام تھا جو مغربی بیت الخلا استعمال کرتے تھے
جب کوئی شخص ٹانگیں موڑ کر بیٹھتا ہے تو گھٹنے مڑتے اور رانیں پیٹ میں دھنس جاتی ہیںاورمقعد کی پوزیشن سیدھ میں ہوجاتی ہے
انڈینز کے بیت الخلا کا استعمال قبض کو ہونے سے روکتا ہے اور صحیح ہاضمے کو فروغ دیتا ہے،پاخانہ کسی رکاوٹ کے بغیر گزرنے سے وقت کی بچت ہوتی ہے
انگلش سیٹ پربیٹھنے سے پٹھے تنگ اور بڑی آنت کا آخری حصہ (ریکٹم) خمیدہ ہوتا ہے جس سے پاخانے کے اخراج میں اضافی دبائو کی ضرورت ہوتی ہے
جب بیرونی دبا وبہت زیادہ ہوتا ہے تو یہ تکلیف بواسیر، بڑی آنت کے مسائل اور مقعد میں دراڑ جیسے خطرات کا باعث بن سکتی ہے
اسلام آباد:پاکستان اور انڈیا سمیت ایشیا کے بیشتر حصوں میں جب لوگ رفع حاجت کے لیے بیت الخلا (باتھ روم) جانے کا سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ان کے لیے وہاں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھنے کی سہولت ہو گی یا انھیں اپنی ٹانگیں موڑ کر بیٹھنا ہو گا۔
وقت کے ساتھ رفع حاجت کے مغربی انداز یعنی کموڈ کو جنوبی ایشیا میں بھی اپنایا گیا ہے مگر کچھ لوگ اب بھی انڈین سیٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ کون سا ٹوائلٹ صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے، یعنی مغربی طرز کا کموڈ یا انڈین سیٹ جسے عام فہم انداز میں ڈبلیو سی بھی کہا جاتا ہے۔
رواں سال جولائی کے دوران امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق اب اس بحث کا سائنسی جواب فراہم کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ہی رفع حاجت کے لیے آسان طریقے ہیں اور یہ کہ انڈین ٹوائلٹ اور مغربی طرز دونوں کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں۔اس مضمون میں ہم اس تحقیق کی روشنی میں بات کریں گے کہ انسانی جسم کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے رفع حاجت کا کون سا انداز بہترین انتخاب ہوگا؟
رفع حاجت کے لیے باتھ روم جانا ایک سادہ سی بات لگتی ہے لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ جسم کے اندر پٹھوں اور جسم کی حرکات کا ایک پیچیدہ نظام ہے جو پاخانے یا فضلے کا اخراج آسان یا مشکل بنا سکتا ہے۔معدے کے سینیئر ماہر کیالویزی جیرامن کہتے ہیں کہ مقعد (وہ راستہ جس سے پاخانہ خارج ہوتا ہے) کی پوزیشن بھی اس میں ایک اہم عنصر ہے۔ان کے مطابق مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب مقعد صحیح زاویے پر ہوتا ہے تو پاخانہ زیادہ آسانی سے باہر نکلتا ہے۔ کچھ لوگوں کو بیت الخلا میں کموڈ سیٹ پر بیٹھتے وقت رفع حاجت کرنے میں کچھ دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس سے اس راستے میں خم پیدا ہو جاتا ہے۔
رواں سال جولائی میں شائع ہونے والے تحقیقی نتائج کے مطابق رفع حاجت کے دوران مقعد کو سیدھی پوزیشن میں رکھنا ضروری ہے۔کیالوزی جیرامن کہتے ہیں کہ انڈین ٹوائلٹ کی طرز کے بیت الخلا کے استعمال کی صورت میں مقعد کی پوزیشن میں یہی ہوتا ہے۔ان کے مطابق جب کوئی شخص ٹانگیں موڑ کر بیٹھتا ہے تو گھٹنے مڑتے اور رانیں پیٹ میں دھنس جاتی ہیں۔ پھر جسم قدرتی طور پر آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پٹھے ریلیکس (آرام دہ صورتحال میں ) ہوتے ہیں اور مقعد کی پوزیشن سیدھ میں ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس کے برعکس مغربی طرز کے بیت الخلا میں جب کوئی شخص سیدھا بیٹھتا ہے تو پٹھے تنگ یا سخت ہوتے ہیں اور بڑی آنت کا آخری حصہ (ریکٹم) خمیدہ ہوتا ہے جس سے پاخانے کے اخراج میں اضافی دبائو کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم ڈاکٹر کیالوزی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ صرف اس کی بنیاد پر انگلش سیٹ یا کموڈ کو صحت کے لیے سازگار قرار دینا درست نہیں۔ان کے مطابق دونوں قسم کے بیت الخلا کئی سالوں سے زیر استعمال ہیں۔ شاید اگر مغربی انداز میں بہت سے عملی مسائل ہوتے تو اس کا استعمال اتنا طویل نہ ہوتا۔
اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مغربی طرز کے بیت الخلا بزرگوں، جسمانی معذوری میں مبتلا افراد اور بیمار افراد کے لیے مفید ہیں۔
جب رفع حاجت کی بات آتی ہے تو دنیا بھر میں عام طور پر تین طریقوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔ مکمل طور پر پیروں کے بل گھٹنے موڑ کر بیٹھنے کا انداز، کرسی پر بیٹھنے کا مغربی اندازجبکہ انگلش سیٹ پر ہی ٹانگوں کو قدرے اونچا کرکے( پیروں کے نیچے تپائی یا پٹرا) رکھ کر پاخانہ کرنا۔
ڈاکٹر کیالوزی کے مطابق اس سے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں آتی تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی انداز میں بھی لوگ اس طرح کی تبدیلیاں کرتے ہیں کیونکہ کرسی جیسی پوزیشن میں ٹانگیں اٹھا کر اور جوڑ کر بیٹھنے سے پاخانے میں آسانی ہوتی ہے۔
یعنی انڈین سیٹ میں رفع حاجت کرتے وقت مقعد صحیح زاویہ پر ہوتا ہے۔ اس لیے پاخانہ گزرنے میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا تاہم چونکہ کرسی کے سائز کا ٹوائلٹ استعمال کرنے میں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں اس لیے بہت سے لوگ اس سے بچنے کے لیے سیٹ پر بیٹھتے وقت ٹانگیں اٹھانے کی عادت اپناتے ہیں۔
دوسری جانب تحقیق میں حصہ لینے والے رضاکاروں نے بتایا کہ سکواٹنگ (اکڑوں بیٹھنا) کے طریقہ کار میں رفع حاجت کرنے کے دوران کم سے کم کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس مغربی انداز میں رفع حاجت کے لیے اضافی دبا ئودرکار ہوتا ہے۔
تاہم اس مطالعے میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جب بیرونی دبا وبہت زیادہ ہوتا ہے تو یہ تکلیف بواسیر، بڑی آنت کے مسائل اور مقعد میں دراڑ جیسے خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انڈین ٹوائلٹ میں سکواٹنگ کا طریقہ ایک شخص کے بیت الخلا میں گزارنے والے وقت کو بھی کم کرتا ہے کیونکہ پاخانہ بغیر کسی رکاوٹ کے آسانی سے گزر جاتا ہے۔
جرنل آف ایڈوانسڈ میڈیکل اینڈ ڈینٹل سائنسز ریسرچ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ انڈینز کے بیت الخلا کا استعمال قبض کو ہونے سے روکتا ہے اور صحیح ہاضمے کو فروغ دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بعض دیگر کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ انڈین طرز کے بیت الخلا بزرگوں اور جسمانی معذوری کے حامل افراد کے لیے استعمال کرنا مشکل ہے۔ دوسری جانب ہم خود بہت سے گھروں میں دیکھتے ہیں کہ وہ کموڈ کی نسبت انڈین بیت الخلا کو استعمال کرنا زیادہ آرام دہ سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر کیالوزی کے مطابق لہذا اس بات سے قطع نظر کہ آپ کون سا بیت الخلا استعمال کرتے ہیں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اپنی غذا میں مناسب مقدار میں غذائی اجزا کو استعمال کیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آپ بغیر کسی پیچیدگی کے پاخانہ خارج کر سکیں۔
ڈاکٹر کیالوزی کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے ہم بہت سے خاندانوں میں انڈین بیت الخلا کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور مغربی طرز سے مشابہت رکھنے، سٹول یا پٹرا وغیرہ کا استعمال کرنے کا رواج دیکھ سکتے ہیں۔جولائی میں شائع ہونے والی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ انڈین ٹوائلٹ کی سکواٹنگ پوزیشن میں پاخانے کے اخراج کے دوران مکمل صفائی یا پیٹ خالی ہونے کا احساس مغربی ٹوائلٹ کی طرز کی پوزیشن میں ہر وقت نہیں ہوپاتا۔
یعنی یہ ایسا احساس ہے کہ پاخانہ مکمل طور پر نہیں نکلا ہے۔ اس کا تعلق قبض اور ہاضمہ کی تکلیف سے ہے۔ یہ احساس ان لوگوں میں زیادہ عام تھا جو مغربی بیت الخلا استعمال کرتے تھے۔ڈاکٹر کیالوزی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تکلیف سے نمٹنے کے لیے پاں کے لیے پٹرا رکھنے سے کسی حد تک مدد ملتی ہے۔انھوں نے کہا کہ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے پٹرے یا سٹول پر ٹانگوں کو اونچا کرنے سے اینوریکٹل اینگل بہتر ہوتا ہے جو کموڈ کے استعمال سے منسلک تکلیف کو کم کر سکتا ہے۔
جب ڈاکٹر کیالوزی سے پوچھا گیا کہ کیا قبض، اپھارہ اور بواسیر کے درمیان کوئی تعلق ہو سکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ آپ کسی شخص کی جسمانی صحت کا فیصلہ صرف بیت الخلا کی شکلوں کی بنیاد پر نہیں کر سکتے۔ خوراک، بیٹھنے کی عادت اور تنا وبھی اس میں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔
انڈیا میں دو طرح کے بیت الخلا کے نظام کے استعمال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہاگر آپ فائبر سے بھرپور غذائیں کھانے اور آنتوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے وافر مقدار میں پانی پینے کی عادات پر عمل کرتے ہیں تو چاہے آپ کسی بھی قسم کا بیت الخلا استعمال کریں، قبض کے مسائل سے چھٹکارا پانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

