بھارت میں سیاسی رہنما قتل،مودی کی جماعت پر الزام

اتوار کے روز انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے قصبے میں ہزاروں سیاسی کارکنوں نے ایک سیاستدان کی میت اٹھا کر مارچ کیا ہے جن کی ہلاکت سے انڈیا میں ہونے والے عام انتخابات میں پر تشدد واقعات کا آغاز ہو گیا ہے۔

مشرقی ریاست کی حکمران جماعت آل انڈیا تری نامول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قانون ساز رہنما ستیجیت بسواس کو ہفتے کے روز نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ہندو دیوی کی عبادت کی تقریب میں شریک تھے۔

ان کی جماعت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) پر ستیجیت بسواس کے قتل کاالزام لگایا ہے تاہم بی جے پی رہنماوں کی جانب سے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

مغربی بنگال پولیس کے نائب سربراہ انوج شرما کا کہنا ہے کہ ہمیں شبہ ہے کہ اس قتل کے تانے بانے سیاسی قتل و غارت سے ملتے ہیں تاہم دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے۔

ٹی ایم سی کارکنوں نے 38 سالہ ستیجیت بسواس کی میت کو کولکتہ سے 120 کلومیٹر دور ضلع نادیہ کے ایک ہسپتال سے اٹھا کر ان کے آبائی علاقے تک مارچ کیا ۔