مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے وفد کی چئیرمین ایف بی آر سے ملاقات

صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے چیئرمین ایف بی آر کو تاجروں کو درپیش مسائل ، ایف بی آر کے حکام کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کیے جانے پر آگاہ کیا
پوائنٹ آف سیل کا چھوٹے تاجروں پر نفاذ ناقابل عمل ،قومی آمدن میں اضافے کے بجائے رشوت ،کرپشن اور بلینک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوگا ، کاشف چوہدری
چیئرمین ایف بی آر کی کاشف چوہدری کو تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی ، تاجروں کو ہراساں کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ

اسلام آباد(نیوزپورٹر) صدرمرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری کی قیادت میں وفد نے پیر کو چئیرمین ایف بی آر راشد محمولنگڑیال سے ملاقات کی ، ملاقات میں ممبر آئی آر زبیر بلال و دیگر بھی موجود تھے ۔ملاقات کے دوران کاشف چوہدری نے چیئرمین ایف بی آر کو تاجروں کو درپیش مسائل ، ایف بی آر کے حکام کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کیے جانے پر آگاہ کیا اور کہا کہ ملک میں کاروبار کرنے کے زمینی حقائق نہایت کٹھن ہیں، پوائنٹ آف سیل کا چھوٹے تاجروں پر نفاذ ناقابل عمل ہے جس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اس اقدام سے قومی آمدن میں اضافے کے بجائے رشوت، کرپشن اور بلیک میلنگ کے ایک نئے سلسلے کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے اور کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے چھاپوں اور جرمانوں کے طرزِ عمل نے مارکیٹوں میں شدید خوف اضطراب اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔چئیرمین ایف بی آر نے صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری کو مسائل کے حل کے لئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ملاقات کے دوران کاشف چوہدری نے چئیرمین ایف بی آر کو مسائل اور ان کے حل کے لئے اقدامات پر مبنی تحریری مراسلہ پیش کیا۔کاشف چوہدری نے کہا کہ معیشت کی ترقی کا انحصار فعال، مستحکم اور اعتماد پر مبنی صنعتی و تجارتی نظام پر ہے۔موجودہ مشکل معاشی حالات میں صنعت و تجارت کے پہیے کو چلائے رکھنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے حکومتی پالیسیوں کا تسلسل، سازگار کاروباری ماحول، منصفانہ ٹیکس نظام ایف بی آر کا دوستانہ و تعاون پر مبنی رویہ نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔کاشف چوہدری نے کہا کہ ھمارے تحفظات کے باوجود ملکی و غیر ملکی برانڈز ، چین اسٹورز پر پوائنٹ آف سیل (POS) کے نفاذ کا عمل شروع کیا گیا برانڈز ،چین اسٹورز کے پاس کمپیوٹرائزڈ نظام، متبادل بجلی، تربیت یافتہ عملہ اور انتظامی ڈھانچہ موجودہے ، پوائنٹ آف سیل کے اس نظام کے نفاذ سے برانڈز اور چین اسٹورز کے کاروباروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا دوسری جانب ڈاکومینٹیشن کے نام پر مداخلت، جرمانے اوردکانیں سیل کے اقدامات نے کاروباری طبقے میں خوف و بے یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ایف بی آر عملے نے اب برانڈز، چین اسٹورز سے آگے بڑھتے ہوئے مارکیٹوں کی عام دکانوں پر بھی یلغار کا انداز اختیار کر لیا ایف بی آر کے بڑی گاڑیوں کے قافلے ، مارکیٹوں پہ چھاپے ایک ایسے منظر کا تاثر پیش کرتے ہیں جیسے کسی دشمن قوت کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو۔کاشف چوہدری نے کہا کہ ایف بی ار کا یہ طرزِ عمل تاجروں کی تذلیل ہے اور ذہنی اذیت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔پوائنٹ آف سیل کے نفاذ کے نام پر پسند و ناپسند کی بنیاد پر نوٹسز جاری کیے جا رھے ہیں ۔ ایف بی آر عملہ سے معاملات طے نہ کرنے والے تاجروں کو ہراساں ، دکانیں سیل اور جرمانے کیے جاتے ہیں چھاپوں اور جرمانوں کے طرزِ عمل نے مارکیٹوں میں شدید خوف اضطراب اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے کاشف چوہدری نے کہا کہ ملک میں کاروبار کرنے کے زمینی حقائق نہایت کٹھن ہیں۔ تاجروں کی اکثریت محدود تعلیمی قابلیت ، ٹیکنالوجی سے ناواقفیت ، تربیت کی کمی کے باعث پوائنٹ آف سیل استعمال نہیں کر سکتی جبکہ بجلی و انٹرنیٹ کی غیر یقینی فراہمی، امن و امان کی صورتحال شدید مہنگائی نے بھی تاجروں کو مسائل کی گردا ب میں گھیر رکھا ہے، متعدد مقامی، صوبائی اور وفاقی لائسنسز، این او سیز اور ٹیکسز کا بوجھ بھی تاجروں کا ڈالا گیا ہے کاشف چوہدری نے کہا کہ مارکیٹوں کی عام دکانوں پر پوائنٹ آف سیل سسٹم کا نفاذ ناقابلِ عمل ہے اس اقدام سے قومی آمدن میں اضافے کے بجائے رشوت کرپشن اور بلیک میلنگ کے ایک نئے سلسلے کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ برانڈز اور چین اسٹورز کے علاوہ عام مارکیٹوں کے تاجروں کو پوائنٹ آف سیل کے نام پر ہراساں نہ کیا جائے۔ مارکیٹوں کو درپیش ٹیکس مسائل کے حل کے لیے ایف بی آر کا عملہ متعلقہ تاجر تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لے کر مشاورت کے ساتھ اقدامات کرے۔ ملک بھر میں دکانیں سیل کرنے، گرفتاریاں، جرمانے کرنے، دھمکانے اور خوف و ہراس کا سلسلہ فوری بند کیا جائے ۔ معاملات باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جائیں ۔تاجروں کو درپیش سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں تاجر برادری کے اعتماد کی بحالی ، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ملکی معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات کیے جائیں ۔چئیرمین ایف بی آرنے تاجروں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرا تے ہوئے کہا کہ تاجروں کو ہراساں کسی صورت نہیں کیا جائے گا۔تاجروں کو بلیک میل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی رشوت کرپشن کی شکایات پر ایف بی آر کے ذمہ دار اھلکاروں کو فارغ کیا جائے گاجو دکاندار پوائنٹ اف سیل کے متحمل نہیں ہو سکتے ان پہ نہیں لگایا جائے گا اورتاجر تنظیموں کی مشاورت اور اعتماد سے آگے بڑھیں گے ۔انہوں نے ریجنل آفسز کی سطح پر تاجر تنظیمات سے فوری میٹنگز کے زریعے رابطوں کو بہتر بنانے اور نچلی سطح پر درپیش مسائل کو حل کروانے کی یقین دھانی کروائی