اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے بیٹے نے گزشتہ دنوں دو خواتین کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کر دیا تھا
لڑکے کی عمر 16سال اور گاڑی بھی نان کسٹم پیڈ تھی،جج نے مظلوم خاندان پر سرکاری اثر ورسوخ استعمال کیا
سپریم جوڈیشل کونسل میںبرطرفی کی درخواست کرنل (ر) انعام الرحیم نے دائر کی ہے
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے خلاف شکایت دائر کردی گئی-
درخواست میں جج کے خلاف انکوائری کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کرنے کی استدعا کی گئی ہے- شکایت میں کہا گیا کہ جسٹس محمد آصف کے بیٹے کی گاڑی سے حادثے میں 2 خواتین جاں بحق ہوئیں- شکایت کے متن کے مطابق جسٹس آصف کا 16 سالہ بیٹا ابوذر نان کسٹم پیڈ گاڑی چلا رہا تھا، جسٹس آصف نے اثرورسوخ اور ریاستی مشینری استعمال کرتے ہوئے ورثا پر دباؤ ڈالا، جاں بحق خواتین کے ورثا کے بیانات خفیہ انداز میں ریکارڈ کرکے ملزم کو ضمانت دی گئی-
درخواست میں مزید کہا گیا کہ جج کو اعلیٰ اخلاق اور کردار کا حامل ہونا چاہیئے جسٹس آصف نے متاثرین کے گھر ہمدردی کے بجائے سرکاری افسران کے دباؤ پر انحصار کیا اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے لہذا جسٹس محمد آصف کے خلاف انکوائری کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کیا جائے۔
جسٹس محمد آصف کا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ 20 جنوری 2025 کو بلوچستان ہائی کورٹکے ایڈیشنل جج بنے تھے اور یکم فروری کو انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا.



