پاکستانی طالب علم کی چین کی مدد کے ساتھ مہلک دماغی مرض کے خلاف جنگ کی روداد

تیانجن(شِنہوا) چین میں زیر تعلیم گلگت بلتستان کے علاقہ سکردو کے ایک 29سالہ پاکستانی طالب علم علی حسنین میں ہرپس سمپلیکس وائرس ( ایچ ایس وی آئی) سے ہونے والے مہلک وائرل انسیفلائٹس کی تشخیص ہوئی، جو انسانی دماغ پر حملہ کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں دماغ کو نقصان یا متاثرہ شخص کی موت واقع ہو سکتی ہے۔چین میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے ارادے کے تحت علی حسنین نے چین کی شمالی میونسپلٹی تیانجن کی تیانجن یونیورسٹی میں کنٹرول سائنس و انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے درخواست دی۔بدقسمتی سے مزید تعلیم حاصل کرنے کا اس کا خواب اس وقت چکنا چور ہو گیا جب پی ایچ ڈی کے پہلے سال کے پہلے ماہ 25 ستمبر کی صبح وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں کومے میں چلے گئے۔صبح کے وقت ہنگامی کال موصول ہوتے ہی اسکول آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے بین الاقوامی طلبا کے داخلہ دفتر کے ڈائریکٹر وانگ ہائی تیانجن کے فرسٹ سینٹرل اسپتال پہنچ گئے۔
وانگ نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ گہرے قومے کی حالت میں بے چارہ لڑکا اسٹریچر پر پڑا تھا، اور اس کو مسلسل جھٹکے لگ رہے تھے۔ نرسوں اور میں نے جلدی سے علی حسنین کے ٹیسٹ کرانے کے لیے اسٹریچرکو دھکیلا۔ابتدائی تشخیص کے بعد، ہسپتال کے ماہرین کا کہنا تھا کہ حسنین شدید بیمار ہے، اور وہ اس کی جان بچانے کے لیے تمام دستیاب آپشن کو بروئے کار لائیں گے۔حسنین کو دماغ کی مزید سرجریز کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں رکھا گیا۔
سکول آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے کونسلر ٹیچر تانگ بوون روزانہ اسپتال آتے اور حسنین کی تازہ ترین طبی صورتحال سے اس کے والدین اور یونیورسٹی حکام کو آگاہ کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ ممکن ہے کہ وہ اس کے جان نہیں بچا پائیں گے تو انہیں بہت دکھ ہوا تھا۔
ایک اردو مترجم کی مدد سے تانگ نے حسنین کے اہل خانہ کے ساتھ ویڈیو کال کی اور انہیں اس کی صحت کے بارے میں بتایا۔تانگ کا کہنا تھا کہ اس کے والد بہت پریشان تھے اور بار بار آہیں بھر رہے تھے۔ وہیں مجھے بھی ایک باصلاحیت نوجوان کے ممکنہ نقصان پر پریشانی تھی اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
ڈاکٹر کی تجویز پر حسنین کے گھر والوں نے کچھ ویڈیوز ریکارڈ کیں جو اس کے کانوں کے قریب بار بار چلائی گئیں تاکہ اس کے بچپن کی یادوں کو واپس لایا جاسکے۔
حسنین کے کچھ بڑے آپریشنزکے بعد دھیرے دھیرے امید کی کرنیں پھوٹنے لگیں۔20 اکتوبر کو، حسنین نے آخرکار اپنی آنکھیں دوبارہ کھولیں دیں جب تانگ اور اسی اسکول میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علم علی مظہر کی مدد کے ساتھ اس کو سی ٹی سکین کے بعد آئی سی یو میں منتقل کیا جارہا تھا۔مظہر نے بتایا کہ وہ اسٹریچر کو اسپتال کی راہداری سے لے کر آرہے تھے جب اچانک میں نے دیکھا کہ حسنین نے اپنی آنکھیں کھول دی ہیں۔جس پر تانگ نے فوری ڈاکٹروں کو آگاہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ آخرکار تقریبا ایک ماہ کے بعد امید پیدا ہوئی۔
صحت میں بتدریج بہتری کے بعد حسنین کو 28اکتوبر کو آئی سی یو سے منتقل کردیا گیا۔اس کے بعد تانگ نے دوبارہ حسنین اور اس کے والدین کے درمیان ویڈیو کال کا بندوبست کیا۔اگر چہ وہ بولنے کے قابل نہیں تھا تاہم والدین کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اور وہ بار بار اپنے والدین کے سوالات پر سر ہلا کر ان کو جواب دیتے رہے۔
وانگ نے حسنین کی دیکھ بھال اور مکمل صحت یابی کے لیے ایک کل وقتی نرسنگ ورکر کی خدمات حاصل کرنے میں بھی مدد کی۔اس کے خاندان کے مالی مسائل کا پتہ چلنے کے بعد یونیورسٹی نے ان کے علاج اور نرسنگ کے حوالے سے مالی مدد بھی فراہم کی۔
حسنین کے والد کی اس خواہش کہ ان کا بیٹا بہتر صحت یابی کے لیے پاکستان میں اپنے خاندان کے پاس واپس آئے، اس پر یونیورسٹی نے بھی پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ساتھ مل کر اس کی جلد وطن واپسی کا انتظام کیا۔وانگ، تانگ اور مظہرنے حسنین کو بیجنگ ہوائی اڈے کے لئے روانہ کیا۔ وانگ نے بتایا کہ وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے اس نے ہم سب کا شکریہ ادا کیا، اور ہمیں الوداع کہا، جس پر میں نے بھی اسے الوداعی تحفہ کے طور پر خدا حافظ کہا۔