تجارتی معاہدہ کی امیدیں معدوم ہونے کے بعد مودی حکومت سرکاری ٹھیکوں میں چینی کمپنیوں کیلئے عائد پابندیاں ہٹانے پر غور کررہی ہے
نئی دہلی:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارت پر بڑھتے دبائو کے باعث بھارت نے اپنی توجہ چین کی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں ، نئی دہلی چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو استوار اور زیادہ بہتر کرنے کی کوشش کرسکتاہے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی وزارتِ خزانہ سال پرانی ان پابندیوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو چینی کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکوں میں بولی لگانے سے روکتی تھیں۔ ایک بھارتی اخبار کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بیجنگ کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں کمی کے ماحول میں نئی دہلی اس کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال کرنا چاہتی ہے۔یہ پابندیاں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان ایک ہلاکت خیز جھڑپ کے بعد عائد کی گئی تھیں ۔ان پابندیوں کے تحت ہندوستان میں سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کیلئے چینی کمپنیوں کو ہندوستان کی سرکاری کمیٹی میں رجسٹریشن کرانا اور سیاسی و سیکوریٹی منظوری حاصل کرنا ضروری تھا۔ان اقدامات کی وجہ سے چینی کمپنیوں کیلئے ہندوستان میں سرکاری ٹھیکوں کیلئے جن کی مجموعی مالیت کا اندازہ ارب ڈالر کے درمیان ہے،بولی لگانے کے مواقع فی الحقیقت مسدود ہوگئے تھے۔ پابندیوں کے اعلان کے چند ماہ بعد ہی چین کی سرکاری کمپنی سی آر آر سی ملین ڈالر کے ٹرین سازی کے ٹھیکے میں بولی لگانے کیلئے نااہل قرار پائی تھی۔پابندیوں میں نرمی کے منصوبے کی خبر سب سے پہلے رائٹرس نے حکومت میں موجود اپنے کم از کم ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ حکام رجسٹریشن کی شرط ختم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں ذرائع جنہوں نے عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، نے بتایا کہ حتمی فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کا دفتر یعنی پی ایم او کرے گا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس ضمن میں خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ رائٹرس نے وزارتِ خزانہ اور وزیر اعظم کے دفتر نے اس ضمن میں موقف جاننے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں دیاگیا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے پابندیاں نرم کرنے کا منصوبہ دیگر سرکاری محکموں کی درخواستوں پر بنایا ہے۔ مذکورہ محکموں کو پابندیوں کے باعث پرجیکٹ میں تاخیر اور قلت کا سامنا ہے۔ مختلف وزارتوں کی سفارش پر ایک اعلی سطحی کمیٹی جس کی سربراہی سابق کابینہ سکریٹری راجیو گوبا کر رہے ہیں، نے پابندیاں نرم کرنے کی سفارش کی ہے۔ گوبا مودی سرکار کے ایک اہم تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔
آبزرور رِیسرچ فاونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد چینی کمپنیوں کو ملنے والے ٹھیکوں کی فیصد گھٹ گئی جو سال بھر قبل میں بلین ڈالر تھی۔ خاص طور سے بجلی کے شعبہ کیلئے چین سے آلات کی درآمد پر پابندیوں نے اس منصوبے کو متاثر کیا ہے جس کے تحت آئندہ ایک دہائی میں تھرمل پاور کی صلاحیت کو تقریبا گیگاواٹ تک بڑھانا ہے۔ چینی کمپنیوں پر عائد کی گئی پابندیاں ہٹانے کی خبر عام ہوتے ہی بھارت ہیوی الیکٹریکلس کے حصص فیصد اور لارسن اینڈ ٹوبرو کے فیصدگر گئے کیوں کہ انہیں چینی کمپنیوں سے شدید مقابلہ آرائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یا د رہے کہ وزیراعظم مودی نے طویل عرصہ بعدستمبر میں چین کا دورہ کیاتھا جس میں تجارتی تعلقات میں بہتری پر بات چیت ہوئی تھی۔




