امت کی ترقی اور خوشحالی کا راز نوجوانوں پر سرمایہ کاری میں پوشیدہ ہے، پروفیسر اقبال چوہدری

 

اسلام آباد:کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد چوہدری نے مسلم دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ سماجی و اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کریں۔ وہ اصفہان میں مصطفی ۖ پرائز کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر عالمی سائنس، اختراعات اور تعلیم کو ہر کونے تک پہنچا کر دنیا کو بدل سکتے ہیں۔پروفیسر چودھری نے کہا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس کی تعریف علم اور اس کے اطلاق سے ہوتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبدالسلام کا حوالہ دیا، "ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ ممالک سے نہ صرف اس لیے مختلف ہیں کہ ان کے پاس دولت اور سرمایہ کم ہے بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس کم علم ہے”۔انہوں نے مصطفی ۖ پرائز کے اجرا کو مسلم دنیا کے سائنس و ٹیکنالوجی منظرنامے میں سب سے اہم قرار دیا اور کہا کہ اس نے اب عالمی اعتماد اور پہچان حاصل کر لی ہے۔پروفیسر چودھری نے کہا کہ او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا ممالک کا گروپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے خطے میں 50 فیصد سے زائد آبادی کی عمر 25 سال سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے مناسب اور متعلقہ تعلیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کامسٹیک نے بین الاسلامی تعاون کے ذریعے نوجوانوں کی سائنس میں صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی و اقتصادی ترقی کا انحصار اب قدرتی وسائل پر نہیں رہا، علم ہی بنیادی ایندھن ہے جو عالمی معیشتوں کا انجن چلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 نئی ٹیکنالوجیز 2025 تک 33 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی دولت پیدا کریں گی، جیسا کہ میک کینسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی 2019 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
پروفیسر چودھری نے ذکر کیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کو سیاسی حمایت، بجٹ میں اضافہ، خواتین کی شرکت، نئی ٹیکنالوجیز پر تحقیق و ترقی کے اخراجات میں اضافہ، پیٹنٹ اور آئی پی آر کے تحفظ پر زور، سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون اور نوجوانوں میں سائنس سیکھنے میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کی سماجی و اقتصادی ترقی کا بہترین نمونہ نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے پر سرمایہ کاری کرنا ہے۔
پروفیسر چودھری نے مصطفی ۖ پرائز کی انعامی تقریب کے منتظمین کو مسلم دنیا میں سائنس میں مہارت کو تسلیم کرنے کے لئے شاندار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے امید کی شمع روشن کرنے اور 2 ارب سے زائد مسلمانوں کو سمت کا احساس دلانے پر مصطفی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فانڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔
مصطفی ۖ پرائز 2012 میں قائم کیا گیا تھا، اور ایوارڈ کی تقریب ہر دو سال میں منعقد کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ پروفیسر چودھری کو بائیو آرگینک کیمسٹری کے شعبے میں 2021 میں مصطفی ۖ پرائز سے نوازا گیا تھا۔