شفافیت کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل آڈٹ نظام متعارف

اسلام آباد: پاکستان نے سرکاری شعبے کے آڈٹ نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ 2022 سے آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (AMIS) کی تیاری اور نفاذ کے ذریعے آڈٹ کے پورے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے۔
دفترِ آڈیٹر جنرل پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق، AMIS نے آڈٹ پلاننگ سے لے کر حتمی آڈٹ رپورٹ تک پورے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ اس نظام کی بدولت آڈٹ کے عمل میں کارکردگی، مؤثریت اور شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے عوامی مالیاتی نگرانی مزید مضبوط ہوئی ہے۔
آڈٹ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت AMIS کو اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل نظام بنانے کے لیے مزید توسیع کا کام جاری ہے، جس کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (PAOs) کے ساتھ ڈیجیٹل انٹرفیس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ رابطہ کاری اور حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ بہتر بنایا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ آڈیٹر جنرل پاکستان کے دفتر میں سنٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کو بھی مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے، جس کا افتتاح دسمبر 2025 میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کیا تھا۔
مستقبل کے منصوبوں میں آڈٹ جانچ پڑتال کے لیے بگ ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال بھی شامل ہے، جس کے لیے آڈیٹر جنرل پاکستان کے دفتر نے پہلے ہی چار جدید سافٹ ویئر لائسنس حاصل کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ڈیٹا کے تبادلے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے یونیورسل بزنس لینگویج (UBL) معیار کو اپنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کے آڈٹ نظام کو جدید بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور سرکاری اداروں میں احتساب کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔