راولپنڈی: خاوند کے قتل کی ملزمہ تہمینہ پروین باعزت بری

راولپنڈی …… ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی مسٹر طاہر اسلم کی عدالت نے تھانہ کہوٹہ کے مشہور قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے آشنا کے ساتھ مل خاوند کو قتل کرنے کے الزام سے خاتون ملزمہ تہمینہ پروین اور ملزم فیصل جاوید کو باعزت بری کردیا۔ملزمان کے خلاف31 اکتوبر 2017 میں تھانہ کہوٹہ نے مستغیثہ زخیا بیگم کی مدعیت میں مقتول بابر شہزاد کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اور پیش کر دہ 13 گواہان کے بیانات میں تضاد کے باعث شک کا فائدہ ملزمان کو دے کر با عزت بری کر دیا ملزمان کے وکلاء پینل میں شامل اصغرعلی مبارک۔مس طاہرہ بانو مبارک۔مس عظمی مبارک اور عظمت علی ایڈووکیٹ کےدلائل سے اتفاق کرتے ہوئے فاضل عدالت کے جج مسٹر طاھر اسلم نے ملزموں کی بریت کا فیصلہ سنایا واضح رہے کہ گزشتہ سال دس جولائی کوآشنا کے ساتھ ملکر خاوند کو قتل کے الزام میں قید  تہمینہ پروین خاتون ملزمہ کی  لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر  جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی  نے ضمانت منظور کر کےرھا کیا تھا۔تھانہ کہوٹہ کے مشہور قتل مقدمہ میں ملوث تہمینہ پروین نامی خاتون ملزمہ کو سال 2017میں  مقدمہ نمبر 299 زیر دفعہ جرم 302۔34 تعزرا ت  پاکستان کی دفعات  کے تحت گرفتارکیا گیا تھا۔
خاتون ملزمہ تہمینہ پروین پر سسرالیوں کی طرف سے مبینہ طور پر  خاوند  بابر شہزاد کوآشنا کے ساتھ ملکر  قتل  کرنے کا  الزام تھا ،خاوند کو قتل کے الزام میں قید  تہمینہ پروین  کے وکیل اصغر علی مبارک نے  لاہور ہائی کورٹ  کے جج جناب جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی کی عدالت میں دلائل دیتے ہوے کہا تھاکہ آشنا کے ساتھ ملکر خاوند کو قتل کرنے کا  الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے جو صرف ملزمہ اور اسکے والدین کو بلیک میل ،حراساں کرنے کی کوشش ہے ملزمہ خاوند کو قتل  کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور چالیس کلو گرام وزن سے بھی کم دبلی پتلی لڑکی اپنے سے کئی گنا صحت مند نوجوان کو ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر کیسے مار سکتی ہے پولیس کے سامنے اقرار کی قانون شھادت  میں کوئی وقعت نہیں ہے فاضل جج  جناب جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے خاوند کو قتل کے الزام میں قید  تہمینہ پروین  کے وکلاء اصغر علی مبارک۔مس طاہرہ بانو مبارک۔مس عظمی مبارک ایڈووکیٹس اور  استغاثہ کے  دلائل سننے کے بعد ملزمہ کو دو لاکھ کے ضمانتی مچلکوں پر رھا کرنے کا حکم دیاتھا جو گزشتہ روز ایک سال سماعت کے بعد باعزت بری ھو گئی جبکہ ھمراھی ملزمان محمد شفیق۔خالدہ پروین اور۔فیصل جاوید کو بھی شک کا فائدہ دیکر باعزت بری کر دیا گیاہے۔