نیٹو ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شامل نہیں ہوگا

تاہم انفرادی طور پر رکن ممالک امریکی کوششوں کی حمایت کر سکتے ہیں،سیکرٹری جنرل نیٹو
صدر ٹرمپ ایران کی قیادت کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں مگران کے پاس اس کے بعدکاکوئی منصوبہ موجود نہیں ، امریکی میڈیا


برسلز:نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ نیٹو کسی صورت ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی انتہائی اہم ہے تاہم نیٹو بطور اتحاد اس میں شامل نہیں ہوگا،انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو کے اس میں گھسیٹے جانے یا اس کا حصہ بننے کا قطعا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انفرادی طور پر رکن ممالک امریکا کی کوششوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔اس طرح امریکی صدر ٹرمپ کیلئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کہ نیٹو نے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔
یاد رہے کہ قبل ازیں عراق اور افغانستان میں لڑنی جانے والی جنگوں میں امریکہ کے ساتھ اس کے اتحادی بھی تھے اور کسی حد تک اسے اقوام متحدہ کی حمایت بھی حاصل تھی تاہم اس بار ٹرمپ نے امریکہ کو بالکل تنہاء اس جنگ میں دھکیل دیا ہے اور ا ن کے پاس اس بحران سے نکلنے کا کوئی متبادل حل بھی نہیں ہے۔
صرف برطانیہ نے ایران پر حملے جاری رکھنے کے لئے امریکہ کو اڈے دینے کی درخواست قبول کی ہے تاہم برطانوی وزیراعظم اسٹامرنے یہ بھی کہا ہے کہ عراق کے تلخ تجربے کے باعث برطانیہ اس جنگ میں براہ راست شریک نہیں ہوگا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے فوجی اڈوں کے استعمال کیلئے اجازت طلب کی تھی۔ہم نے امریکا کی درخواست قبول کر لی ہے، جس کے تحت ایران کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لیے برطانیہ کے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے سے روکنے کے لیے کیا ہے، تاکہ معصوم شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں، برطانوی شہریوں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں اور ایسے ممالک کو نشانہ بننے سے بچایا جا سکے جو اس تنازع میں شامل نہیں ۔
دوسری طرف امریکی میڈیا کے مطابق ہ صدر ٹرمپ ایران کی قیادت کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں مگران کے پاس اس کے بعدکاکوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ امریکی میڈیا نے بتایا کہ امریکاکا آمرانہ حکومتوں کوگراکر جمہوریت قائم کرنیکا ریکارڈ متنازع اور پیچیدہ رہاہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا کاریکارڈ ان مواقع پربھی متنازع رہا جب بعدکے مرحلے کے لئے واضح منصوبہ موجود تھا۔
امریکی میڈیاکے مطابق ایسی کوششیں زیادہ تر مایوسی کا سبب بنی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ایسے ممالک سامنے آئے جوبدستور تنازعات کا شکار ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسے ممالک نے امریکا کے کردارکے خلاف بغاوت کی یاپھر مضبوط امریکی اتحادی شمار ہی نہیں ہوئے۔