برطانیہ نے امریکا کو ایران پر حملوں کیلئے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
برطانیہ کی طرف سے بہت دیر سے ردعمل آیا جلدکارروائی کرنی چاہیے تھی،ٹرمپ پھر بھی ناراض
سری لنکا نے بھی امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیا،بحران کا حل مذاکرات ہی ہیں،فرانس اور چین کا موقف
اسلام آباد:ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 20 دن بعد برطانیہ مہذب اور جنگ کی مخالف دنیا کو چھوڑ کر امریکی چھتری تلے آگیا ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ نے امریکا کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکے، خاص طور پر وہ اہداف جو آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل برطانیہ امریکی افواج کو صرف ان کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے چکا تھا جن کا مقصد ایران کو ایسے میزائل فائر کرنے سے روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔تاہم جمعہ کو ہونے والے وزارتی اجلاس میں اس اجازت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت اب امریکی افواج برطانوی اڈوں کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی۔ڈاننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور حکومت کے مطابق تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے اصولی مقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ڈاننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برطانوی اڈے اب امریکی دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جن کا ہدف وہ صلاحیتیں ہوں گی جو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ وزرا نے فوری کشیدگی میں کمی اور جنگ کے جلد از جلد حل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی طرف سے بہت دیر سے ردعمل آیا، برطانیہ کو جلدکارروائی کرنی چاہیے تھی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمزمیں کشیدگی سے عالمی تیل ترسیل کو خطرہ لاحق ہے۔
دوسری طرف سوئٹزرلینڈ نے مہذب دنیا کا ساتھ دیتے ہوئے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روکتے ہوئے ایران جنگ میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ میں شامل ممالک کو بھی اسلحے کی فراہمی معطل کردی ۔
سوئس حکومت نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روکتے ہوئے ایران جنگ میں شامل ممالک کو بھی اسلحے کی فراہمی معطل کردی۔
ادھر سری لنکا نے بھی امریکی جنگی طیاروں کو اڈہ دینے سے انکار کر دیا، سری لنکن صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ امریکا نے مارچ کے آغاز میں دو جنگی طیارے مٹالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات کرنے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔
فرانسیسی صدر کے مشیر سے گفتگو میں چینی وزیر خارجہ نے کہا بحران کا حل مذاکرات اور ڈائیلاگ میں ہے، چین اور فرانس کو مل کر مشرقِ وسطی بحران کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔ترک وزیر خارجہ نے ترک صدر کا پیغام اماراتی صدر شیخ زاید تک پہنچایا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے سفارتکاری کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




