ان کے خطاب نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کے عوام کو مایوس کیا
وہ فوری جنگ بندی چاہتے ہیںلیکن اعلان کرتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں
ایران جنگ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان تو نہ کیا لیکن ماحول بناتے رہے
ان کا سارا خطاب اس نکتے پر مرکوز تھا کہ باعزت واپسی کے راستے کی تلاش ہے
پورے خطاب میں ایک ہی بات نئی تھی کہ وینزویلا کے تیل کے بعد اب مشرق وسطی کے تیل کی ضرورت نہیں
امن کے لئے دنیا کو ٹرمپ کے اس خطاب کا جس قدر چینی سے انتظٓار تھا اتنا ہی مایوس کن ثٓابت ہوا
اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ کا خطاب جس کا دنیا کو بے چینی سے انتظار تھا پوری دنیا اور خود امریکی عوام کے لئے مایوس کن ثابت ہوا ان کا یہ خطاب نئی بوتل میں پرانی شراب کی طرح تھا۔ خطاب میں کوئی نئی بات نہ تھی وہی پرانے بیانات تھے جس وہ اور ان کے ساتھی گزشتہ چند دنوں سے دہرارہے تھے۔
انہوں نے جنگ بندی کا کوئی باضابطہ ٹائم فریم تو نہ دیا لیکن یہ ضرور واضح کر دیا کہ فوری جنگ بندی اب امریکہ کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ان کے خطاب میں ایک ہی نئی بات تھی کہ اب وینزویلا کے تیل کے بعد انہیں مشرق وسطحی کے تیل کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کو دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ اگر اس نے امریکہ کے سامنے سرنڈر نہ کیا تو اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔لیکن ایران پر ان کے ان باتوں کا اب کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اگر وہ باقاعدہ حملہ کرنے سے پہلے یہ سب دھمکیاں لگاتے تو شائید اس کا کچھ اثر ہوتا لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے اور اس کا اندازہ انہیں بھی ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے سارے خطاب کا مقصد جنگ کے خاتمے کا ماحول بنانے پر مرکوز تھا۔
امریکی صدر نے عوام سے خطاب میں ایران جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد تمام فوجی مقاصد حاصل کرلیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کیے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا، چار ہفتوں میں امریکی فوج نے فیصلہ کن حملےکیے ہیں، ہم نے ایران کی نیوی، ائیرفورس کو مکمل تباہ کردیا ، انکے کئی لیڈر ختم ہوچکے، رجیم ختم ہوچکا، ایران کے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت بھی ختم کردی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کا مشکل حصہ مکمل ہوچکا، اب ایران خطرہ نہیں رہا، ایران جنگ کے اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں، مقاصد کی مکمل تکمیل تک جنگ جاری رہے گی، اپنا مشن مکمل کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی اشارہ دیا اور دھمکی دی کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔
امریکی صدر نے ایران جنگ میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا تاہم انہوں نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
صدر ٹرمپ بولے ایرانی حکومت امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتی رہی ہے، 47 سال سے یہ صورتحال قائم تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، امریکا آبنائے ہرمز سے نہ تو تیل لیتا ہے، نہ لے گا، جن ممالک کے پاس تیل نہیں، وہ امریکا سے حاصل کرلیں، جو ممالک تیل حاصل نہیں کرسکتے، انہیں آبنائے ہرمز سے تیل خود لینا ہوگا، تنازع ختم ہو گا تو آبنائے ہر مز قدرتی طور پر کھل جائے گی۔
امریکی صدر نے خطاب کے دوران اسرائیل، سعودی عرب، قطر، یواےای،کویت اور بحرین کو عظیم ممالک قرار دیا اور کہا کہ ہم ان ممالک کو نقصان پہنچنے اور کسی بھی شکل میں ناکام نہیں ہونے دیں گے ۔
تیل کی قیمتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا بہت سے ممالک تیل قیمتوں میں اضافے پرپریشان تھے اور یہ اضافہ ایران کے ہمسائیہ ممالک پر حملوں کی وجہ سے ہوا لیکن ہمیں وینزویلا کے بعد مشرق وسطیٰ کے تیل کی اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ امریکا اب آئل اور گیس کا نمبر ون پروڈیوسر ہے۔
صدر ٹرمپ نے خطاب کے دوران آرٹیمس مشن روانہ کرنے پر ناسا کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ خلا نورد مشن کامیابی سے مکمل کرکے واپس پہنچیں گے۔
بہرحال امن کے لئے دنیا کو ٹرمپ کے اس خطاب کا جس قدر چینی سے انتظٓار تھا وہ دنیا اور خودامن کے خواہشمند امریکی عوام کے لئے اتنا ہی مایوس کن ثٓابت ہوا۔



