ٹرمپ کی دھمکیاں، ایران ڈٹ گیا اگلے چند گھنٹے اہم

آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا توایران میں انفراسٹریکچر تباہ کر دیں گے
دنیا بھر میں ایرانی سفارتخانوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو مذاق میں اُڑا دیا
جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل،رضا امیری مقدم

اسلام آباد(رپورٹ : محمدرضوان ملک )ایران اور امریکہ کے درمیا ن جاری جنگ میں شدید شدت آگئی ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نے کھولا توایران میں پاور پلانٹ اور انفرسٹریکچر تباہ کر دین گے اور پاکستانی وقت کے مطابق یہ ڈیٹ لائن بدھ کی صبح پانچ بجے ختم ہو رہی ہے۔تاہم حوصلہ افزائ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی خیرسگالی اور سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ڈیل نہ ہونے کی صور ت میں ایران کے پاور پلانٹ اور انفراسٹرکچر تباہ کر دیں گے اور کہا کہ ڈیل نہ ہوئی تو بارہ بجے سے پہلے ایران میں ہر پاور پلانٹ تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا اب ہمارے دوسرے جانب سرگرم لوگ بات کر رہے ہیں جو ہم سے ڈیل کرنا پسند کریں گے، ایران میں نئے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، ایران جنگ بندی مذاکرات کے لیے فعال اور بات چیت پر آمادہ شرکا موجود ہیں، مذاکرات میں کچھ بہترین ممالک ثالثی کررہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا پچھلی مرتبہ ہم ڈیل کے قریب تھے مگر وٹکوف، کشنر اور جے ڈی وینس نے بتایا کہ انہوں نے ڈیل توڑ دی ہے، اس پر میں نے 45 منٹوں میں حکم دیا کہ ایران کا سب سے بڑا پل تباہ کر دیں اور وہ پل 10 منٹ میں تباہ ہو گیا۔اس بار امید ہے بجلی گھروں اور پلوں پر بمباری نہیں کرنی پڑے گی ورنہ پورا ایران تباہ کیا جانا ممکن ہے اور یہ اگلی شب بھی ہوسکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا اگر ہم نے ایران کا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا تو اسے بحال کرنے میں ایران کو 100 سال لگیں گے، اگر ہم نے ایران کو اس وقت چھوڑ بھی دیا تو انہیں انفراسٹرکچر بحالی میں 20 سال لگیں گے۔
دوسری طرف ٹرمپ نے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ایران جنگ میں خدا امریکا کی مددکررہا ہے۔امریکی صدر سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران کےخلاف جنگ میں خدا امریکا کی مددکررہاہے؟ جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ٹرمپ بولے خدا اچھا ہے اور چاہتا ہےلوگوں کاخیال رکھا جائے، خدا کو یہ سب پسند نہیں جو ہورہا ہے اور مجھےبھی یہ سب پسندنہیں۔امریکی صدر نے کہا سب کہتے ہیں کہ میں اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔
ادھر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران سے نکالے گئے ائیر مین کا موازنہ حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیے جانے سے کردیا۔انہوں نے کہاگڈ فرائیڈے کو ایران میں طیارہ گرایاگیا، پائلٹ ہفتے کے روز غار میں چھپا رہا اور اتوار کو اسے بچالیاگیا، اسے ایران سے اُس وقت نکالاگیا جب ایسٹرسنڈےکی صبح سورج طلوع ہورہاتھا۔امریکی وزیرجنگ کا کہنا تھا ایک پائلٹ جسےدوبارہ زندگی ملی، سب گھر واپس آگئے اورپوری قوم خوشی منارہی ہے۔
دوسری طرف دنیا بھر میں ایرانی سفارتخانوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو مذاق میں اُڑا دیا ہے اور کئی سفرائ کی جانب سے ٹوئٹس وائرل ہوئی ہیں۔دنیا بھر میں ایرانی سفارتخانے دھمکیوں کو سنجیدہ لینے کے بجائے جم کر ٹرمپ کی ٹرولنگ کر رہے ہیں ۔
زمبابوے میں سفارتخانے نے ہرمز کھولنے کی ٹرمپ کی فرمائش پر لکھا “چابی کھو گئی ہے” ، ڈیڈ لائن والی دھمکی پر سفارتخانے نے ٹرمپ سے وقت آگے پیچھے کرنے کی طنزیہ فرمائش کر ڈالی۔
بلغاریہ میں کارٹون کے ذریعے ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے تنگ راستے میں پھنسا ہوا دکھایا گیا۔
اس کے علاوہ تاجکستان کے سفارتخانے نے ایران کو ٹرمپ کے گلے میں اٹکا ہوا دکھا کر اُسے ان کی بدتمیزی کی وجہ بتایا۔
ادھر انڈونیشیا میں ایرانی سفارتخانے نے امریکی طیاروں کی ایران آمد اور پھر تباہی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹرول کیا۔
آرمینیا میں ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ کی جنگی جنون پالیسیوں کو عالمی ایندھن بحران سے جوڑا گیا۔
تاہم اس مشکل وقت میں ایک امید افزائ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ روکنے کیلئے خیرسگالی اور سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔