اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو ماڈل ویلیجز میں بھی آپریشنز کی اجازت دے دی

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے احکامات جاری کئے ،متاثرین اسلام آباد کی مشکلات میں اضافہ

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) اسلام آؓ باد ہائیکورٹ نے نے سی ڈی اے کو ماڈل ویلیجز میں بھی آپریشنز کی اجازت دے دی ہے۔ جس سے مقامی متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے احکامات جاری کئےڈویژن بینچ نے پہلے ماڈل ویلیجز بنانے کا جسٹس محسن اختر کیانی کا حکم معطل کردیا۔سی ڈی اے کی ڈی جی انفورسمنٹ انعم فاطمہ، ڈی جی لاء نعیم اکبر ڈار، وکیل نذیر جواد، عامر گل عدالت میں پیش ہوئے۔ سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے دلائل دئےکہ سی ڈی اے ماڈل ویلیجز کی زمین 60 سال قبل ایکوائر کرچکا، قبضہ حوالے نہیں کیا جارہا۔سی ڈی اے نے ماڈل ویلیجز بنائے لیکن وہاں غیر مقامی لوگ آگئے۔
ماڈل ویلج نور پور شاہاں کے رہائشیوں کی جانب سے قیصر امام ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سی ڈی اے کو ماڈل ویلیجز میں مقامی افراد کے خلاف آپریشنز سے روکا جائے۔غیر مقامی افراد کو نکالنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی لیکن مقامی افراد کو بے گھر نہ کیا جائے۔
سی ڈی اے کے وکیل کا موقف تھا کہ مقامی افراد سی ڈی اے کی ایکوائر زمینوں کے بدلے معاوضہ لے چکے ہیں۔عدالت نے ماڈل ویلیجز میں مقامی افراد کی آپریشنز روکنے کی استدعا مسترد کر دی