ایران امریکہ مذاکرات بیٹھک پھر پاکستان میں سجے گی

ایران کے بعد امریکہ نے بھی مذاکرات پاکستان میں ہونے کا عندیہ دے دیااگلے دو روز اہم
ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے شیدائی ، انہی کی کارکردگی کے باعث مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان جانے پر غور کر رہے ،ٹرمپ
ایران سے مذاکرات میں جس مقام پر ہیں، اس پر بہترمحسوس کرتا ہوں، جنگ بندی برقرار ہے ،حتمی ڈیل ابھی نہیں ہوئی، جے ڈی وینس

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک با ر پھر پاکستان میں ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے اور اس سلسلے میں اگلے دو روز اہم ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان کو ترجیح دینے کا دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کیلئے پاکستان جانے کا امکان زیادہ ہے ، پتا ہے کیوں؟ کیونکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایران مذاکرات سے متعلق نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے بات چیت کیلئے ہمارے وفد کا پاکستان جانے کا امکان ہے، ایران سے مذاکرات کا اگلا دورآئندہ 2 روز میں پاکستان میں ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں مذاکرات کا اگلا دور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر زبردست ہیں اس لئے امکان ہے کہ ہم دوبارہ پاکستان جائیں۔ ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے صحافی کو مشورہ دیا کہ آپ کو وہاں رہنا چاہیئے اگلے دو دنوں میں کچھ ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کیلئے پاکستان جانے کا امکان زیادہ ہے ، پتا ہے کیوں؟ کیونکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔
مزید برآں امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یورپ توانائی کیلئے بے حد پریشان ہے، برطانیہ شمالی سمندر سے تیل نکالنے سے انکار کررہا ہے، برطانیہ کا یہ اقدام بالکل پاگل پن ہے۔ ڈرل بے بی ڈرل۔ شمالی سمندر دنیا کے بہترین ذخائر میں سے ایک ہے۔ ناروے اپنا خام تیل برطانیہ کو دگنی قیمت پر فروخت کررہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید ونڈملز کی ضرورت نہیں، برطانیہ فوری طور پر تیل نکالنا شروع کرے۔
یاد رہے کہ اس قبل 12 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ختم نہیں ہوئے اور ایرانی وفد ‘‘ابھی بھی مذاکرات کی میز سے نہیں اٹھا’’۔ایک ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران دوبارہ مذاکرات میں واپس آئے گا اور وہ امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کرے گا۔ ان کے مطابق، ‘‘میں نے اپنے لوگوں سے کہا ہے کہ مجھے 100 فیصد چاہیے، 90 یا 95 فیصد نہیں۔
ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی کارکردگی کے باعث امریکا مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان جانے پر غور کر رہا ہے۔
اس سے قبل ایرانی حکام نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تھا کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، دوسری طرف کا معلوم نہیں، مذاکرات کا دوسرا دور ہو تو پاکستان ہماری ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد آسکتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے اہلکار نے بھی رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دوراس ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ٹرمپ چاہتے ہیں ایران سے چھوٹی نہیں جامع ڈیل ہو۔ یونیورسٹی آف جارجیا میں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ49 برس میں اس اعلیٰ سطح کے امریکا ایران مذاکرات نہیں ہوئے، 49برس کا عدم اعتماد ایک رات میں دور نہیں ہوسکتا، ایرانی جانتے تھے صدر ٹرمپ نے مجھےنیک نیتی سےبھیجا، ٹرمپ چھوٹی ڈیل نہیں چاہتے اس لیے ابھی تک ایران سےڈیل نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا پاکستان میں کہا کہ بہت پیشرفت ہوئی ہے مگر جامع ڈیل نہیں ہوسکی، ڈیل ایسی ہو کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہ کرے، ریاستی دہشتگردی نہ کرے۔نائب امریکی صدر نے کہا ٹرمپ چاہتے ہیں ایران ڈیل امریکا اور دنیا میں ہر ایک کیلئے عظیم ہو، ڈیل ایسی ہوکہ ایرانی عوام عالمی معیشت کاحصہ بن سکیں، ایران نارمل بنے تو امریکا اقتصادی طور پر نارمل ملک جیسا برتاؤ کرے گا۔
انہوں نے کہا ایران سے مذاکرات میں جس مقام پر ہیں، اس پر بہترمحسوس کرتا ہوں، جنگ بندی برقرار ہے۔