موجودہ صورت حال کے پیش نظر معاہدے کی خود کار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم جارجیا میلونی
امریکہ کے شہر نیو یارک میں اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے خلاف احتجاج کے دوران درجنوں مظاہرین گرفتار
روم : اسرائیل کو اس کی بدمعاشی اور ایک تازہ تھپڑ اٹلی کیجانب سے پڑا ہے اور اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کردیا جس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ ختم ہوگیا۔ اطالوی خبر رساں ایجنسی آنسا کے مطابق اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی ازخود تجدید معطل کر رہے ہیں‘، معاہدے میں فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی تحقیق کا تبادلہ شامل ہے، جس کی معطلی سے متعلق اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے یہ بات ویرونا میں ایک تقریب سے خطاب کے موقع پر کہی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر امریکہ کے شہر نیو یارک سٹی میں اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے خلاف احتجاج کے دوران درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ روز نیو یارک سٹی میں اسرائیل کو امریکی اسلحے کی فروخت روکنے اور امریکی فوجی حمایت کے خاتمے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے متعدد گرفتاریوں کی تصدیق کی، تاہم درست تعداد بارے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔بتایا جارہا ہے کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین سینیٹ کے رکن چک شومر اور ان کے ڈیموکریٹ ساتھی کرسٹن جِلِبرینڈ کے دفاتر کے قریب جمع ہوئے، اس دوران مظاہرین نے ’بمباری بند کرو، قتل عام ختم کرو اور فلسطین کو آزاد کرو‘ جیسے نعرے لگائے، مظاہرے کے دوران غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی گئی، مظاہرین نے ’غزہ کو جینے دو، لبنان کو جینے دو‘ کے نعرے بھی لگائے۔



