پنشنرز ایکشن کمیٹی کا نیشنل بینک انتظامیہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ ،بڑی تعداد میں پنشنرز کی شرکت
چالیس سالہ پرانے فکسڈ میڈیکل فارمولہ تبدیل کر کے موجودہ حالات کے مطابق نیا فارمولہ بنایا جائے:نعیم اللہ فریدی
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)نیشنل بینک آف پاکستان پنشنرز ایکشن کمیٹی (پاکستان اینڈ اوور سیز) کے زیر اہتمام بوڑھے پنشنرز نے اپنے مطالبات کے حوالے سے اور نیشنل بینک کی ہٹ دھرم انتظامیہ کے توہین آمیز روےے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ نیشنل بینک آف پاکستان پنشنرز ایکشن کمیٹی(پاکستان اینڈ اوور سیز) کے سیکرٹری جنرل ظفر صادق کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں نعیم اللہ فریدی، عشرت محمود بٹ ، امجد قریشی ، ذوالفقار سندھو سمیت بڑی تعداد میں پنشنرز نے شرکت کی ۔
مظاہرین نے کتبے اورپلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے ، مظاہرین نے نیشنل بینک انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔ سیکرٹری جنرل نیشنل بینک آف پاکستان پنشنرز ایکشن کمیٹی(پاکستان اینڈ اوور سیز) ظفر صادق نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل بینک انتظامیہ2010 سے سالانہ بجٹ انکریز پر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کر کے توہین پارلیمنٹ اور توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے ،لہٰذاقومی اسمبلی کے اسپیکر بینک انتظامیہ کے خلاف توہین پارلیمنٹ کی کارروائی کریں جبکہ توہین عدالت پربھی سخت کارروائی کی جائے اور تمام پنشنرز کو فوری طور پر ان کاحق دیا جائے۔ظفر صادق نے کہا کہ نیشنل بینک انتظامیہ پنشنرز کے میڈیکل الائونس میں بھی بددیانتی کر رہی ہے اپنے ہی جاری کردہ سرکلر کی نفی کی جا رہی ہے لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چالیس سالہ پرانے فکسڈ میڈیکل فارمولہ تبدیل کر کے موجودہ حالات کے مطابق نیا فارمولہ بنایا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بجٹ انکریز کے تمام واجبات بلا تفریق باقی ماندہ پنشنرزکو بمعہ میڈیکل واجبات فوری ادا کیے جائیں، بینک انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بوڑھے پنشنرز شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں، نیشنل بینک آف پاکستان کے نوہزار سے زائد ریٹائرڈ بزرگ و بیمار پنشنرزاور فیملی پنشن لینے والی، جن میں ہماری بزرگ بیوہ بہنیں اور یتیم بچیاں شامل ہیں جنہوں نے 2010 سے پارلیمنٹ کے اعلان اورسپریم کورٹ کے فیصلے سالانہ بجٹ انکریز سے اپنی بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں لیکن حسب معمول نااہل، ظالم اور جابر نیشنل بینک کے صدر رحمت علی حسنی اور ان کی ٹیم اپنے وکلاءکے ذریعے شاطرانہ چال چل کر کیس کو الجھا نے اور ملتوی کرانے کے حربوں پر کار بندہیں اس سلسلہ میں صدر بینک اور ان کی ٹیم بینک کے فنڈز پنشنرزکے معاشی قتل کیلئے بے دریغ استعمال کر رہے ہیں اور وکلاءکو ان کی حیثیت سے کہیں زیادہ ادائیگیاں صرف کیس کی طوالت کیلئے کی جارہی ہیں حالانکہ وکلاءاور صدر دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ اس کیس کا فیصلہ نیشنل بینک پنشنرز کے حق میں ہو چکا ہے اور بینک انتظامیہ اس فیصلے پر عملدر آمد نہیںکررہی ہے لہٰذاپنشنرز ایکشن کمیٹی نیشنل بینک آف پاکستان صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیر اعظم شہباز شریف اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر سے مطالبہ کرتی ہے کہ توہین پارلیمنٹ اور توہین عدالت کرنے پر نیشنل بینک انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تمام پنشنرز کو فوری طور پر ان کا حقد لایا جائے۔
پارلیمنٹ اور عدلیہ کی توہین،نیشنل بینک انتظامیہ کیخلاف ایکشن لیا جائے: ظفر صادق



