اب ایران سے جنگ نہیں کرونگا ،ٹرمپ نے ہاتھ کھڑے کر دئے

امریکی صدر نے دوبارہ جنگ نہ کرنے کے فیصلے سے مشیروں کو بھی آگاہ کردیا
ایرانی طاقتور اورغیور ہیں میں ڈیموکریٹ ہوتا توکوئی نہ پوچھتا کہ جنگ کب جیتی جائےگی
ایران کے پاس 20 فیصد کے قریب میزائل رہ گئے ہیں باآخر ایران معاہدے پر آئے گا
جنگ کے حل میں وقت لگتا ہے، یہ کام فوری نہیں ہوتے،امریکی ٹی وی این بی سی کو انٹرویو

واشنگٹن :امریکی صدر ٹرپ نے واضح کیا ہے کہ وہ دوبارہ ایران سے جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے مشیروں کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے اور جنگ کومزید پھیلانا نہیں چاہتی_ایک امریکی خبار نے د عویٰ کیا ہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب ایران کے خلاف مزید جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مشیروں سے کہا ہے جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو نشانہ نہیں بنایاجاتا،تب تک دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔
دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان بھی جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں اس حوالے سے امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہوئے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے، دونوں ممالک کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو اہے۔اسرائیل اور لبنان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔
دوسری طرف امریکی ٹی وی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی ہیں، اس کے پاس بالآخر معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، ایران وہ اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے حل میں وقت لگتا ہے، یہ کام فوری نہیں ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس بالآخر معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، ایران وہ اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا۔ ایران نے جنگ بندی کیلئے ڈیل پراتفاق نہیں کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اتفاق اس لیےنہیں کیاکیونکہ وہ طاقتور اورغیور ہے، میں ڈیموکریٹ ہوتا توکوئی نہ پوچھتا کہ جنگ کب جیتی جائےگی۔
اس سے قبل امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری انتظامیہ کو ایران کے معاملے پر زبردست کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، ایران جوہری ہتھیار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بہت سے آئل ٹینکر گزرے ہیں،تعداد بتانا نہیں چاہتا، آبنائے ہرمزبحران حل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے، آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے کے بعد تیل قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ممکن ہے تیل کی قیمتیں پہلے سے بھی کم ہو جائیں۔
یاد رہے کہ امریکی ایوان نمائندگا نے بھی ایک قرارداد کے ذریعے ٹرمپ کے از خود جنگ کے اختیار کو محدود کر دیا ہے.