ایران پر حملوں میں برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال برطانیہ کو نتائج بھگتنا ہوں‌ گے، پاسداران انقلاب

برطانیہ جارحیت کرنے والوں کی مذمت کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دے رہا ہے، اپنی خود مختاری کا دفاع کریں‌گے

لندن÷تہران:امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنےکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائےگا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہےکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ایران پر حملوں میں برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیدیا ہے .ترجمان کے مطابق برطانیہ جارحیت کرنے والوں کی مذمت کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دے رہا ہے، حملوں میں معاونت، جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے برابر ہے، ایسا اقدام ایران کے خلاف جارحیت میں شرکت کے مترادف ہو سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خود مختاری کا دفاع کرے گا، جو ملک ایران پر حملوں میں مدد کرے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
،،،،،،،،،،