ڈی جی نے اسسٹنٹ اشرف علی مروت کو معطل کر دیا معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

اسلام آباد:فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی میں بے ضابطگیاں اور بے قاعدگیاں انتہاء کو پہنچ گئی ہیں۔ اپنی اپنی دہارٹی لگانے اور اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے افسران اور عملہ رات گئے تک آفس میں موجود رہتا ہے اور مالی معاملات پر توتکار بھی جاری رہتی ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک اسسٹنٹ نے ڈائریکٹر فنانس کو پیٹ ڈالا۔
اسلام آبادفیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاونڈیشن اتھارٹی میں ڈائریکٹر فنانس کو کمرے میں زبردستی داخل ہو کر تشدد کا نشانہ بنانے میں پر ڈی جی کا ایکشن اسسٹنٹ کو معطل کر دیا جبکہ دفتری ٹائم ختم ہونے پر تمام افسران، ملازمین کو چھٹی کرنے کی ہدایت ٹائم ختم ہونے کے بعد دفتر کو تالا لگانے کے احکامات جاری کر دیئے، ذرائع کے مطابق وزارت ہائوسنگ کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہائوسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر فنانس کاشف جو ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے ہیں کہ دفتر میں ایف جی ایچ اے کے اسسٹنٹ اشرف علی مروت اپنے بقایا جات جو اتھارٹی کے ذمے تھے لینے گیا تو دونوں میں تو تکار ہونے پر جھگڑا ہوا۔
ڈائریکٹر فنانس کے مطابق اسے کمرے میں بند کر کے پلاسٹک کے پائے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 52 ہزار روپے بھی چھین لیے واقعہ شام سات بجے پیش ایا حالانکہ آفس ٹائم پانچ بجے ختم ہو جاتا ہے معاملہ ڈی جی تک پہنچا تو اسسٹنٹ اشرف علی مروت کو معطل کر دیا گیا معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ اسسٹنٹ اشرف علی مروت پر دفتر انے پر پابندی لگا دی گئی ہے تو اشرف علی مروت سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کیا کہنا تھا کہ میرے واجبات ایک لاکھ 67 ہزار ہیں وہ لینے کے لیے میں فنانس ڈائریکٹر کے کمرے میں گیا سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق میں نے اسے کاغذات فراہم کیے تو اس نے کاغذات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے میں نے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا دفتر میں کیمرے لگے ہوئے ہیں ریکارڈنگ لے کر چیک کیا جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب فنانس ڈائریکٹر کاشف سے ان کا موقف جاننے کے لیے ان کے نمبر پر بار بار کال کی گئی لیکن فون اٹینڈ نہ ہوا۔



