روس اور چین نے ایسیا نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے،امید ہے وہ اس پر عمل کریں گے، ٹرمپ
چین اور روس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ان بیانات کی تصدیق کی ہے نہ تردید
امریکہ یوکرین کو ہتھیار فراہم نہیں کرتا ، نیٹو کو فروخت کرتے ہیں ،اس کے بعد کوئی علم نہیں ،ٹرمپ کی بھی وضاحت
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران چین اور روس کو ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی سخت تنبیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن دونوں نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو کسی بھی صورت ہتھیار فروخت نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس کے برعکس کوئی اقدام کیا گیا تو یہ دونوں ممالک کے اپنے مفاد میں نہیں ہوگا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ حالیہ دورۂ بیجنگ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے واضح طور پر کہا کہ چین نہ تو خود ایران کو ہتھیار دے گا اور نہ ہی چینی کمپنیاں ایسا کریں گی۔ ٹرمپ کے مطابق انہیں شی جن پنگ کی اس یقین دہانی پر مکمل اعتماد ہے۔امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ان سے اسی نوعیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے، اس کے باوجود پیوٹن نے کہا ہے کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے حوالے سے بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا براہِ راست یوکرین کو ہتھیار فروخت نہیں کرتا بلکہ نیٹو کے رکن ممالک کو اسلحہ فراہم کرتا ہے، جو اس کی مکمل قیمت ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں وہ ہتھیار کس طرح تقسیم کیے جاتے ہیں، اس بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں موصول ہونے والی یقین دہانیوں کی بنیاد پر چین اور روس اس وقت ایران کو اسلحہ فراہم کرنے میں شامل نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں ایسا ہوا تو اس کے نتائج دونوں ممالک کے لیے اچھے نہیں ہوں گے اور یہ ان کے اپنے مفادات کے بھی خلاف ہوگا۔
دوسری جانب ٹرمپ کے ان دعوؤں پر چین اور روس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دونوں ممالک نے نہ تو ان بیانات کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان کی تردید کی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور عالمی طاقتوں کی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ٹرمپ کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو چین، روس، امریکا اور نیٹو ممالک کے درمیان سفارتی اور تزویراتی تعلقات بھی نئے امتحان سے گزر سکتے ہیں۔




