فائنل کی فائنل وسل ہوتے ہی الامین یامان اس عطائے ربانی پر گرائونڈ میںہی سجدہ شکر بجالائے
فائنل کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ سے ہاتھ نہ ملا کر انہیںاپنی اور دنیا کی نارضگی سے آگاہ کیا
سپینش فٹبال ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے 19سالہ لامین یامال کی کہانی
واشنگٹن ÷میڈرڈ:فیفا ورلڈ کپ کا فائنل جیتنے والی سپینش ٹیم کے نوجوان کھلاڑی 18سالہ الامین یامین نہ صرف سپینش عوام ، فٹبال شائقین اور مسلم دنیا کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے ہیں بلکہ انہوں نے بھرے مجمے میں ٹرمپ سے ہاتھ نہ ملا کر نہ صرف امن کا بپغام دیا بلکہ مہذب دنیا کا دل بھی جیت لیا ہے.
ایک صحافی نے لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کی بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟
لامین یامال نے جواب دیا:”میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا تھا، وہ حقیقی دباؤ تھا۔ میرے والد گھر کا پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چن کر لاتے تھے، وہ دباؤ تھا کہ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔”
یہ جواب دراصل ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کر دیتا ہے، حالانکہ زیادہ تر مداح صرف ان کی کامیابی کا ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں۔
لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے کم عمر والدین کرایہ ادا نہ کر سکے۔ اس مشکل وقت میں دو پڑوسی، جن کے نام لامین اور یامال تھے، آگے آئے اور ان کی مالی مدد کی۔ اس احسان کے بدلے ان کے والد نے عہد کیا کہ اگر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ اس کا نام انہی دونوں پڑوسیوں کے نام پر رکھیں گے۔ اسی لیے ان کا پورا نام لامین یامال ہے، جو اس احسان کی ہمیشہ یاد دلانے والی ایک زندہ نشانی ہے، ایسا قرض جسے ان کا خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ عربی زبان میں ان ناموں کے معنی "امانت دار” اور "خوبصورتی” ہیں۔
جب لامین تقریباً پانچ برس کے تھے تو ان کے والدین الگ ہو گئے۔ ان کی والدہ نے اسپین کے شہر گرانولیرس میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی معمولی تنخواہ پر کام کرتے ہوئے ان کی پرورش کی۔
ایک دلچسپ حقیقت، جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں، یہ ہے کہ یہی ملازمت لامین کے فٹبالر بننے کی وجہ بنی۔ اسی کام کے دوران ان کی والدہ کی ملاقات CF La Torreta کلب کے یوتھ کوآرڈینیٹر کی بیٹی سے ہوئی، جو بعد میں لامین کے پہلے فٹبال کلب کا ذریعہ بنی۔ جب والدہ نے فیس ادا نہ کر سکنے کی پریشانی ظاہر کی تو کلب کے ذمہ دار نے کہا:”اگر یہ بچہ کھیلنا چاہتا ہے، تو پیسے کبھی بھی اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔”
بچپن میں لامین اپنے والدین سے کہا کرتے تھے:
"اگر آپ امید کر رہے ہیں کہ میں کوئی عام نوکری کروں گا، تو پھر ہم مشکل میں ہیں اور رہیںگے لیکن اگر میں فٹبالر بن گیا، تو آپ کو زندگی بھر کسی چیز کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔”
صرف سات سال کی عمر میں انہوں نے بارسلونا کی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کر لی، اور صرف پندرہ برس کی عمر میں ثابت کر دیا کہ ان کا وعدہ سچا تھا۔
ہر گول کرنے کے بعد وہ اپنی انگلیوں سے 304 کا اشارہ بناتے ہیں۔ یہ دراصل 08304 کا آخری حصہ ہے، جو روکافوندا کے پوسٹل کوڈ کا حصہ ہے، وہی محلہ جہاں ان کے خاندان کی مدد کی گئی تھی اور جہاں دو پڑوسیوں نے ان کی زندگی بدل دی تھی۔ ہر گول کے ساتھ وہ اپنے ماضی، اپنے محلے اور ان محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
اور پھر محض 19 سال کی عمر میں الامین یامال نے وہ کر دکھایا جس کا ہر بچہ خواب دیکھتا ہے انہوں نے ارجنٹینا کے خلاف فیفا فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا اور ٹیم کی کامیابی میںاہم کردار ادا کیا.
فائنل کی فائنل وسل ہوتے ہی الامین یامال پروردگار کے اس عظیم عطے پر رب العالمین کا شکر ادا کرنے کےلئے گرائونڈ میںہی سجدہ ریز ہوگئے .
اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے بعد وہ اٹھے اور غم سے نڈھال میسی کو گلے لگا کر دلاسا دیا.
فائنل کے اختتام پر ایک ویڈیو بڑی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں الامان امریکی صدر ٹرمپ کی طرف آتے ہیں . ٹرمپ ان سے مصآفحہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیںلیکن الامین ٹرمپ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ادائے بے نیازی سے پانی کی بوتل اٹھا کر واپس چل دیتے ہیں اور ٹرمپ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں.


