روس اور کامسٹیک کے درمیان سائنسی و علمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسکالرشپ پروگرامز کو فروغ دینے اور بنیادی تحقیق کے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے پراتفاق
او آئی سی اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون اور مکالمے کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں،روسی سفیر

اسلام آباد(نیوز رپورٹر)پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے وفد سے ملاقات کی، جس میں روس اور کامسٹیک کے درمیان سائنسی، تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد کی قیادت کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کی۔ ملاقات کے دوران او آئی سی میں روس کی مبصر ریاست کی حیثیت کے تناظر میں کامسٹیک اور روس کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کازان فیڈرل یونیورسٹی اور روسی ایسوسی ایشن فار زلزلہ انجینئرنگ اینڈ پروٹیکشن فرام نیچرل اینڈ مین میڈ ڈیزاسٹرز کے ساتھ کامسٹیک کے جاری تعاون کو اجاگر کیا۔
فریقین نے جامعات کے درمیان روابط مضبوط بنانے، اسکالرشپ پروگرامز کو فروغ دینے اور بنیادی تحقیق کے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے سمیت علمی و تعلیمی تبادلوں کے وسیع امکانات پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں کامسٹیک اور روسی فیڈریشن کے درمیان تعاون سے متعلق ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس میں طے کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد تیز کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس 13 مئی 2026 کو کازان میں منعقدہ بین الاقوامی اقتصادی فورم ’’روس–اسلامی دنیا: کازان فورم‘‘ کے موقع پر ہوا تھا۔
روسی سفیر البرٹ خوریف نے او آئی سی اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون اور مکالمے کو مزید وسعت دینے کے لیے روس کے عزم کا اعادہ کیا۔

فریقین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کامسٹیک کے ساتھ تعاون روس اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور مشترکہ منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔