پٹرولیم لیوی زبردستی کا بھتہ اور جگا ٹیکس

پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا
راستہ روکنے کی کوشش کی گئی تو دھرنا ’’حکومت گراؤ تحریک‘‘ میں بدل جائے گا
عوام کا خون نچوڑنے کی بجائے حکمران اپنی عیاشیاں ختم کریں،حافظ نعیم الرحمن
شہباز اور مریم کی گورننس ناکام، حکومتی بریفنگ سننے اسلام آباد نہیں جائیں گے، جس نے بات کرنی ہے دھرنے میں آئے

لاہور (صباح نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی زبردستی کا بھتہ اور جگا ٹیکس ہے، حکومت پٹرول کی قیمت کے ساتھ ٹیکس بھی بڑھا دیتی ہے، عوام کا خون نچوڑنے کی بجائے حکمران اپنی عیاشیاں ختم کریں۔ پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، حکومت نے راستہ روکنے کی کوشش کی تو دھرنا ’’حکومت گراؤ تحریک‘‘ میں تبدیل ہو جائے گا۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی گورننس ناکام ہوچکی، حکمرانوں نے پورے نظام کو تہس نہس کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مال روڈ پر وزیراعلیٰ ہاؤس پنجاب کے باہر پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، قائمقام سیکریٹری جنرل نذیر جنجوعہ ، امیر پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، امیر صوبہ پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر،امیر جماعت اسلامی گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا، امیر جماعت اسلامی سیالکوٹ امتیاز بریار، صدر وائے ڈی اے پنجاب شعیب نیازی، جنرل سیکرٹری پنجاب وسطی بابر رشید، نائب امیر لاہور چودھری شوکت، صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین خان، چوہدری شوکت ، ذکر اللہ مجاہد اور دیگر نے بھی دھرنے کے شرکا سے خطاب کیا۔
اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹریز شیخ عثمان فاروق ، اظہر اقبال حسن ، معاون خصوصی عمیر ادریس ، سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ سکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے وزرا پر مشتمل کمیٹی بنانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومتی کمیٹی کی بریفنگ نہیں چاہیے، جس نے بات کرنی ہے وہ دھرنے میں آکر ہم سے بات کرے، وزیراعظم شہباز شریف سن لیں ہم بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، پٹرولیم لیوی، آئی پی پیز، مہنگائی اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے خلاف لاہور کے علاوہ کراچی اور پشاور کے گورنر ہائوسز کے باہر بھی دھرنے جاری ہیں۔ احتجاج میں عوام کی کثیر تعداد شریک ہے۔لاہور میں دھرنے کا آغاز نماز عصر کے بعد ہوا۔شدید گرمی میں عوام نے جوش و خروش کے ساتھ جماعت اسلامی کے حق میں نعرے لگائے اور حکمرانوں سے مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات کیے۔ شرکا نے جماعت اسلامی کے پرچم اور مہنگائی کے خلاف نعروں پر مشتمل کتبے اٹھا رکھے تھے۔ دھرنے میں حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر بھی شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی، مال روڈ کی فضا ’’حافظ حافظ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی جبکہ کارکنان نے پارٹی پرچم لہراتے ہوئے اپنے قائد کا استقبال کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے خود بھی شرکا سے نعرے لگوائے اور بعد ازاں خطاب کے لیے سٹیج پر آئے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عظیم جدوجہد کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، 7 اگست کو ملک بھر میں 510 سڑکیں بند کرکے تاریخ رقم کی، کراچی اور پشاور میں بھی تاریخی دھرنے شروع ہوچکے ہیں، جبکہ لاہور کے تاریخی چوک میں عوام پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی منظم اور عوام کی حقیقی جماعت ہے، ہماری جدوجہد کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ظلم، مہنگائی اور عوام دشمن نظام کے خلاف ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے عوام کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، آج والدین اپنے بچوں کی فیسیں ادا نہیں کر پا رہے، غریبوں سے صحت کی سہولیات چھین لی گئی ہیں اور سیاستدانوں نے تعلیم کو بھی طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ مراعات یافتہ طبقہ عوام کا خون نچوڑ رہا ہے جبکہ لوٹ مار کرنے والے حکمران عوام کا دکھ نہیں سمجھ سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں بڑھا رہی ہے، پٹرول کی قیمت الگ بڑھائی جاتی ہے اور ٹیکس الگ بڑھایا جاتا ہے۔ جن لوگوں پر ٹیکس بنتا ہی نہیں، ان سے بھی پٹرول پر ماہانہ ہزاروں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ جاگیرداروں اور وڈیروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ن لیگ کے کتنے جاگیرداروں نے اپنی جاگیروں پر ٹیکس ادا کیا ہے؟ جاگیردار سیاستدانوں سے سالانہ 12 ارب روپے جبکہ غریب عوام سے 700 ارب روپے وصول کیے گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ پٹرولیم لیوی لگانا آئی ایم ایف کی شرط ہے، لیکن حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے حکمران اپنے اخراجات کم کریں اور مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کریں۔ پٹرول 225 روپے فی لٹر کیا جائے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، اس کے اندر مخصوص ٹولہ عوام پر مسلط ہو جاتا ہے، لیکن تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں میں بڑا فرق ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور کسی پارٹی کی نہیں بلکہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات منوانے کے لیے بیٹھے ہیں اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکمرانوں کے پیچھے ہٹنے تک دھرنا جاری رہے گا اور جدوجہد جاری رہے گی۔ آج ڈاکٹروں کو بھی ادائیگیاں نہیں مل رہیں، وہ سراپا احتجاج ہیں، دھرنے میں ڈاکٹرز بھی موجود ہیں، جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام سرکاری ملازمین احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اور مختلف طبقات حکمرانوں کی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنے وزرا کو تھوڑی تعلیم دے دیں۔ پنجاب میں عوام کے پیسوں سے تشہیر کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب اور وفاق میں کرپشن کے انبار لگے ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ ’’فارم 47‘‘ موجود ہیں اور عوام کے پسندیدہ نہیں ہیں۔ ہم پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کے لیے اور ظلم کے خلاف ہے، ہم وہ مطالبات نہیں کرتے جو پورے نہ ہوسکیں، ہمارے پاس قابل لوگ موجود ہیں جو ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گورنرز ہاؤس کراچی اور پشاور کے باہر بھی دھرنا جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں عوام اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔عوام اپنے حقوق کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، جدوجہد جاری رہے گی۔