مشتاق منہاس بے پناہ صلاحیتوں کا مالک بہترین لیڈر

صحافت میں‌نام بنانے کے بعد سیاست میں‌ بھی اپنی صلاحیتوں‌کا لوہا منوایا
شہزاد چودھری
مشتاق منہاس بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ایک بہترین لیڈر ہے۔جس نے بہت تیزی سے ترقی کی بہت منازل طے کئیں۔وہ چاھتا تو سیاست میں بھی آسان راستہ چن سکتا تھا۔وہ اگر میاں محمد نواز شریف یا مریم نواز شریف سے کہتا کہ وہ سینیٹر یا کوئی مشیر یا کوئی بھی ان الیکٹڈ عہدہ لینا چاھتا یے تو ممکن تھا اس کو مل جاتا۔۔لیکن اس نے جرنلزم میں بہت جلد انتہائی اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے بعد حلقے کی سیاست کا مشکل کام شروع کیا۔جس میں اس نے اپنی پہچان بنائی۔الیکشن میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مشتاق منہاس نے مقابلہ خوب کیا۔مشکل ہوتا ہے حلقے کے عوام کو مطمئن کرنا بہرحال اس کے باوجود مقابلہ دل ناتواں نے خوب کیا۔لوگ الیکشن سے پہلے تنقید کررھے تھے کہ مشتاق منہاس مقابلے میں ہی نہیں ہے۔مقابلہ تو ضیاالقمر اور بریگیڈئیر صاحب کے درمیان ہے۔لیکن مشتاق منہاس نے سب کے اندازے غلط ثابت کردئیے۔اصل میں جب کسی انسان کی عقل دانش اور اس کی صلاحیتوں سے اپنے بھی خوفزدہ ہوجائیں تو وہ کچھ بھی نہ کرسکیں تو بددعا تو دے ہی دیتے ہیں کہ یہ آگے نہ آئے۔۔ایسی بددعائیں دینے والے بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ مشتاق منہاس جیت گیا تو شاید وہ وزیراعظم نہ بن سکیں۔بہت سے عوامل تھے ۔بہرحال عددی برتری سے ضیاءالقمر جیت گیا لیکن دل مشتاق منہاس نے جیت لیا کہ ان مشکل حالات میں اندر باھر کی سازشوں کے باوجود اس نے مقابلہ کیا اور خوب کیا۔سیاست ٹوئنٹی ٹوئنٹی نہیں ہے۔یہ ایک ٹیسٹ میچ ہے۔اور مشتاق منہاس حوصلہ ہارنے والا نہیں ہے۔۔۔۔
میں تو اتنا کہوں گا کہ تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے۔۔۔۔ہمیں اس شخص سے ہمیشہ محبت ہی ملی ہے۔پھر بھلا ہم اس سے محبت کیوں نہ کریں۔۔۔