پمز سانحہ: بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی

وارڈ میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی اور معیار کے مطابق نہیں تھے
نرسری وارڈ کے ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک اور رکاوٹوں کا شکارپائے گئے
ہنگامی راستے بند ہونے کے باعث جان بچانے کے انتظامات متاثر ہوئےہسپتال کے سیکیورٹی عملے نے فائر عملے کے ابتدائی رسپانس میں رکاوٹ پیدا کی، سی ڈی اے رپورٹ

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)پی آئی ایم ایس چلڈرن نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے حوالے سی ڈی اے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ سامنے آگئی ہے. سی ڈی اے رپورٹ کے مطابقپی آئی ایم ایس نرسری وارڈ میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کے باعث لگی.پی آئی ایم ایس نرسری وارڈ میں آگ لگنے کی کال صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی.فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی اور ریسکیو وین 6 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، سی ڈی اے.
رپورٹ کے مطابق آگ کے باعث نرسری وارڈ سے 7 بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکالا گیا. 7 بچے، 10 خواتین اور 2 مرد متاثر ہوئے. سی ڈی اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابقپمز بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی.
ابتدائی رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں انکوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹا جس سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ سے دھواں پیدا ہوا اور وہ پائپ کےذریعہ بچوں کے سانس میں گیا، بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی۔
انتظامیہ کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ پہلے کم تھی پھر تیزی سے پھیلی۔
دوسری جانب اس سانحے پر پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کا واقعہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق نرسری کے اندر چنگاری بھڑکی اور چند سیکنڈز میں شدید آگ پھیل گئی، انکیوبیٹرپر آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ نے اچانک شدت اختیارکی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسز نے ریسکیو آپریشن شروع کیا، سکیورٹی عملہ بھی مدد کے لیے پہنچا، اور عملے نے بچوں کو نکالنے کےلیے دومرتبہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
انتظامیہ کے مطابق صبح 6 بج کر 39 منٹ پر دھماکا ہوا جس سے چھتیں گرگئیں، یوٹی عملے نے نرسری سے ملحقہ کمرے سے 4 بچوں کو بحفاظت نکالا، ریسکیو کے دوران 3 ماؤں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ اسی منزل پرقائم گائنی وارڈ کے 73 مریضوں کو بھی چند منٹ میں بحفاظت نکالا گیا۔
پمز انتظامیہ نے بیان میں کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کی صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ائیرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی۔اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک بچے کو بچایا جاسکا جب کہ 15 جاں بحق ہوگئے۔
اسپتال انتظامیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عملے نے آگ پر قابو پانے کے لیے پمز میں نصب 35 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے، تمام ایمرجنسی ایگزٹس مکمل طورپرکھلے اور فعال تھے۔جبکہ سی ڈی اے کی رپورٹ میں‌بتایا گیا ہے کہ پی آئی ایم ایس نرسری وارڈ میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی اور معیار کے مطابق نہیں تھے.نرسری وارڈ کے ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک اور رکاوٹوں کا شکار پائے گئے.
رپورٹ میں‌بتایا گیا ہے کہ پی آئی ایم ایس میں ہنگامی راستے بند ہونے کے باعث جان بچانے کے انتظامات متاثر ہوئےہسپتال کے سیکیورٹی عملے نے فائر عملے کے ابتدائی رسپانس میں رکاوٹ پیدا کی.آتشزدگی کے مقام پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے، سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے کے آپریشن میں واٹر باؤزر سمیت 44 آپریشنل اہلکار اور 6 افسران تعینات کیے گئے.
میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایس نرسری وارڈ آتشزدگی پر جی 10، آئی نائن، جی فائیو اور ایف ایچ کیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔