جاری سیریز کے دوران ہی بے ڈھنگے طریقے سے 7کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کردینے پر چہ مگوئیاں
ہیڈ کوچ سرفراز احمد اوربولرز کی اچھی کارکردگی کے باوجود بولنگ کوچ عمر گل کو بھی واپس بلالیا گیا
سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر کشیدہ صورت حال میںنئے آنے والے کھلاڑی کیسے پرفارم کر پائیں گے
عالمی سطح پر جگہ ہنسائی سے بہتر تھا کہ ٹیم آخری میچ بھی ہا رجاتی اور پھر یہ تبدیلیاں کی جاتیں
فیصلہ انتہائی بھونڈا اور احمقانہ ہے کرکٹ کی تاریخ میںاس کی مثال نہیں ملتی سابق سنئیر کرکٹرز
اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک ) جاری سیزیز کے دوران ٹیم کے 7 کھلاڑیوں کو واپس بلا کر چئیرمین کرکٹ بورڈ نے جہاں دنیا بھر میں پاکستانی ٹیم کی جگ ہنسائی کی وہیں پاکستانی کرکٹ کے تابوت میںآخری کیل ٹھونک دی اور اس پر اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں کو الزام دے رہے ہیں کہ ان کی تنقید سے کرکٹ تباہ ہورہی ہے.
سابق سٹار کرکترزوسیم اکرم، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، مصباا لحق،سعید اجمل اور دیگر نے اسے ٹیم کے لئے انتہائی نقصان دہ قراردیا ہے.
جیو نیوز کو ایک انٹرویو میںچیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے کرکٹ کو تباہ کر رہے ہیں جو لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں، کرکٹ انہیں کے آنے سے تباہ ہوئی، لوگوں کی تنقید پر نہیں جاؤں گا، تنقید کرنے والے کبھی کہتے ہیں کہ اس کو نکال دو، کبھی کہتے ہیں اسے کیو ں کھلایا، تنقید سے نہ گھبرایا ہوں ناگھبراتاہوں، ان کی تنقید سےکوئی فرق نہیں پڑتا جنہوں نےخود کچھ نہیں کیا۔لیکن یہاںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ان کی مانتے کیوںہے جو کہتے ہیںکہ اسے ٹیم میںرکھو اور اسے نکالو.
ساتھ ہی انہوںنے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ پرفارمنس کے علاوہ بھی کئی معاملات تھے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ دیگر معاملات پیدا کیوںہوئے.
ان کے اس فیصلے سے پاکستانی کرکٹ کو سخت نقصان پہنچا ہے سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر کشیدہ صورت حال میںنئے آنے والے کھلاڑی کیسے پرفارم کر پائیں گے. اس کشیدہ صورت حال میں ٹیم آخری میچ بھی ہار جائے گی تو پھر اس تبدیلی کا فائدہ کیا ہوا اس کے لئے ایک اور میچ کا انتظار بھی کیا جا سکتا تھا.اس صورت میںٹیم صرف میچ ہارتی عالمی سطح پر پاکستان کرکٹ کی جگ ہنسائی تو نہ ہوتی.
اپنے انٹرویو میں محسن نقوی نے کہا کہ کھلاڑیوںکی حوصلہ شکنی ختم ہونی چاہے جبکہ وہ خود اس پر عمل نہیںکرتے جاری سیریز کے دوران کھلاڑیوںکو بھونڈے طریقے سے واپس بلانے سے کیا کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی نہیںہوئی ہے.
وہ یہ تو کہتے ہیں کہ سلیکشن میںغلطی کرنے والوں سے جواب لیں گے لیکن کیا وہ خود کسی کو جوابدہ ہیں کہ نہیں.
مصباح الحق بھی اس پر مستففیٰ ہو چکے ہیں.



