سعودی حکومت کی جانب سے اسلامی یونیورسٹی کے لئے 15 کروڑ کی گرانٹ

گرانٹ کو تعلیمی ڈھانچے کی جدید کاری اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)سعودی عرب کی جانب سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تعلیمی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 15 کروڑ روپے کے گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر جاری ہونے والی یہ گرانٹ یونیورسٹی کے لیے صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کی اُن جاری کوششوں میں ایک نمایاں پیش رفت ہے جو ان کی قیادت میں تعلیمی اور طلبہ سہولیات کی بہتری اور جامعہ کو ایک جدید، ٹیکنالوجی سے آراستہ ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے جاری ہیں۔اس اقدام کے پہلے مرحلے میں سعودی گرانٹ کے ذریعے یونیورسٹی بھر میں کلاس رومز، کمپیوٹر لیبارٹریز، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام اور اِن سے منسلک تعلیمی سہولیات کو جدید بنایا جائے گا۔ یہ اقدام جدید تدریسی مقامات اور ایسے تکنیکی ڈھانچے کی دیرینہ ضرورت کو پورا کرے گا جو بدلتے ہوئے تدریسی اور تحقیقی تقاضوں کا ساتھ دے سکے۔
منصوبے کا ایک اہم پہلو ہر فیکلٹی میں ایک مخصوص سمارٹ کلاس روم کا قیام ہے، جو انٹرایکٹو سمارٹ بورڈ، ڈیجیٹل پوڈیم اور وائی فائی رابطے سے آراستہ ہوگا اور جس میں 30 طلبہ تک کی گنجائش ہوگی۔ اس کے علاوہ پانچ کمپیوٹر لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی، جن میں 55 ورک اسٹیشنز اور مجموعی طور پر 220 کمپیوٹر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے، جن میں ڈیسک ٹاپ، وی ڈی آئی سسٹمز اور لیپ ٹاپ شامل ہیں۔ ان سہولیات کو سی سی ٹی وی نظام، فرنیچر، پردوں اور دیگر ضروری آلات و آرائشی بہتری کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ یہ گرانٹ طلبہ اور اساتذہ کو جدید ڈیجیٹل وسائل، بہتر لیبارٹریز اور ٹیکنالوجی سے آراستہ مؤثر کلاس رومز تک زیادہ رسائی فراہم کر کے جامعہ میں تدریس و تعلیم کے ماحول کو خاطر خواہ مستحکم کرے گی۔
یونیورسٹی نے اس فراخدلانہ اور مسلسل تعاون پرِ مملکتِ سعودی عرب سے دلی تشکر کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی نے اس گرانٹ کو یونیورسٹی کے ساتھ مملکت سعودی عرب کی دیرینہ وابستگی کا ایک اور مظہر اور سعودی عرب و پاکستان کے درمیان پائیدار برادرانہ تعلقات کا عکاس قرار دیاہے۔جامعہ کمیونٹی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام طلبہ کو عصرِ حاضر کے عالمی تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور روزافزوں ٹیکنالوجی پر مبنی اور باہم مربوط دنیا میں معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لیے یونیورسٹی کی استعداد کو مزید مستحکم کرے گا۔