معزز مہمانوںکے راستے میں آنے والی کچی بستیوںکو پردوںسے ڈھانپ دیا گیا ہے
2023 کی جی20 سمٹ کے دوران بھی اس علاقے میں اسی نوعیت کے پردے لگائے گئے تھے
شہر کی غربت اور کچی بستیوں کو پردوں سے چھپانے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے، شہری
نئی دہلی :بھارت کے دارالحکومت دہلی میں برکس سمٹ کی تیاریوں کے دوران کچی بستیوں کو معزز مہمانوں کی نظروںسے اوجھل رکھنے کے لئے کچی بستی کو پردوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے.
بھارتی اخبامنصف کی رپورٹ کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا شہر کی غربت اور کچی بستیوں کو پردوں سے چھپانے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے؟ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے ان پردوں کو سمٹ کے دوران سکیورٹی، انتظام اور شہر کو منظم رکھنے کے اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت میں جاری 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران جنوبی دہلی کے وسنت وہار علاقے میں واقع ایک کچی بستی کو بڑے سفید اور نیلے/جامنی رنگ کے پردوں اور عارضی بیریکیڈز سے ڈھانپ دیا گیا۔ یہ پردے نیلسن منڈیلا مارگ اور منیرکا مارگ کے ساتھ واقع بستی کے اطراف نصب کیے گئے، جہاں سے غیر ملکی وفود اور اہم شخصیات کی آمدورفت متوقع ہے.
یہ بستی ’کولی کیمپ‘ (Coolie Camp) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ دستیاب 2012 کے دہلی اربن شیلٹر امپروومنٹ بورڈ (DUSIB) کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں تقریباً 281 خاندان رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 فٹ اونچے پردوں نے سڑک سے بستی کا منظر تقریباً مکمل طور پر چھپا دیا، جبکہ آمدورفت کے لیے صرف دو داخلی و خارجی راستے رکھے گئے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق 10 ستمبر کی رات یہ پردے نصب کیے گئے، یعنی برکس سمٹ سے تقریباً دو روز قبل۔ بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس طرح چھپایا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی مہمانوں کو بستی نظر نہ آئے۔ تاہم کچھ رہائشیوں نے پردوں پر اعتراض نہیں کیا اور اسے سمٹ کے دوران علاقے کو صاف ستھرا اور منظم دکھانے کی انتظامی کوشش قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ 2023 کی جی20 سمٹ کے دوران بھی اسی علاقے میں اسی نوعیت کے پردے لگائے گئے تھے۔ اس وقت بھی رہائشیوں نے شکایت کی تھی کہ ان کے گھروں کو غیر ملکی مہمانوں کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے اسکرینیں لگائی گئی ہیں اور نقل و حرکت و کاروبار پر پابندیوں سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
برکس سمٹ کے لیے دہلی میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی، ٹریفک کنٹرول اور شہری خوبصورتی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ تقریباً 25 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ 35 اہم راستوں اور 11 ہوٹلوں کو خصوصی سکیورٹی انتظامات میں شامل کیا گیا۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔سوال ہے کہ کیا شہر کی غربت اور کچی بستیوں کو پردوں سے چھپانے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے؟




