سپریم کورٹ نے ضمانت منظورکی تاہم رہائی کے ساتھ ہی ایک اور کیس میں ’اڈیالہ جیل کے باہر‘ سے دوبارہ گرفتار
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)معروف وکیل جوڑی ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت ملنے کے باوجود رہائی نہ مل سکی اور دونوںکو اڈیالہ جیل سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کس کیس میں گرفتار کیا گیا یہ معلومات چیک کرنے کے بعد بتا سکوں گا۔‘اسلام آباد پولیس نے جمعرات کی رات بتایا ہے کہ وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو رہائی کے بعد اپنی تحویل میں لیا اور اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئی۔ذرائع کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں گرفتاری ڈال دی گئی ہے.
گرفتاری کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو جوڈیشل کردیا جس کے بعد اسلام آباد پولیس ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو دوبارہ اڈیالہ جیل لےگئی۔
یاد رہے کہ قبل ازیں سپریم کورٹ نے 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی سزائیں معطل کردی تھیں.سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک دی گئی ہے۔
اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں 17،17 سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔عدالت نے دونوں ملزمان کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5، 5 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔دونوں کو سیکشن 10 کے تحت 10، 10 سال قید اور 3کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ سیکشن26 اے کے تحت 2، 2 سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی تھی۔
دوسری جانب ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’دراصل انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے ہی لے جایا گیا، کیونکہ ہم ابھی انہیں رہا کرانے کے لیے وہاں نہیں گئے تھے، کیوں کہ کاغذی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے لکھا کہ ’ایک بار پھر، کسی شخص کو اس طرح جیل کے اندر سے لے جانا مکمل طور پر غیر قانونی ہے، لیکن ایمان اور ہادی کے معاملے میں کبھی بھی قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے جمعرات کو وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا تھا۔عدالت نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت منظور کی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار مہوش قماس خان کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو ایمان اور ہادی کی درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس عدالت کے سامنے پیش کیں اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائی کورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔وکیل کے مطابق 12 مئی کے حکم کے باوجود معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس متعدد مرتبہ ملتوی ہوا۔فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کے لیے دائر درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسترد کردی تھی۔
فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں سابق جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک سابقہ ریمارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول صرف جج یا وکیل کے انتقال پر ہی کیس ملتوی ہونا چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی بار بار التوا کا ذکر کرتے ہوئے فیصل صدیقی نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ان کے لیے ’سرپرائز‘ تھا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ’آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔‘
جسٹس نعیم اختر افغان نے ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وکیل ہیں، ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انھیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔۔
اس سے قبل جولائی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پراسیکیوشن کی جانب سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے سزا معطلی کی درخواستیں قابل سماعت قرار دی تھیں۔



