عمرہ زائرین کے ساتھ ساتھ ٹریول آپریٹر بھی مشکلات کا شکار،وزارت مذہبی امور کا واقعے سے اظہار لاعلمی
زیرِ التوا رہنے والے عمرہ کیسز کے لیے واضح طریقۂ کار اور ممکنہ پراسیسنگ مدت سے آگاہ کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان سے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمند زائرین کو عمرہ ویزوں کے اجرا میں تاخیر اور بائیومیٹرک مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سفری شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق سعودی سفارتخانے کو ارسال بعض عمرہ ویزا درخواستیں زیرِ التوا رہنے کے باعث زائرین اور ٹریول آپریٹرز غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں جبکہ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے وزارت کے پاس اس نوعیت کی شکایات موصول ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے سفری شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بعض متاثرہ زائرین اور سفری نمائندوں کو یہ واضح نہیں کہ سفارت خانے کو ارسال ہونے والی درخواستوں پر مزید کارروائی میں کتنا وقت لگے گا اور ویزا کب جاری ہوگا۔ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے متوقع مدت یا واضح طریقۂ کار سے آگاہ کر دیا جائے تو زائرین فضائی ٹکٹ، ہوٹلوں اور روانگی کی تاریخوں کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔متعدد درخواست گزاروں کی جانب سے سعودی ویزا بائیو ایپلی کیشن کے ذریعے انگلیوں کے نشانات اور چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک کارروائی مکمل نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ سفری شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق بعض درخواست گزاروں کو بائیومیٹرک مکمل کرانے کے لیے ویزا سہولت مراکز سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے، جہاں رش اور انتظار کے باعث مشکلات کا سامنا ہے،
ٹریول آپریٹرز کے مطابق ان کے لیے زیادہ تشویش ایسے عمرہ ویزا کیسز ہیں جو نظام میں سفارت خانے کو ارسال کی حالت میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض کیسز کے اس مرحلے پر زیرِ التوا رہنے کے باعث نہ صرف مسافر پریشان ہوتے ہیں بلکہ ٹریول ایجنٹس بھی انہیں ویزا کے اجرا کی کوئی حتمی تاریخ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ویزے کے اجرا میں تاخیر کی صورت میں زائرین کو مالی نقصان کا بھی خدشہ رہتا ہے کیونکہ بیشتر مسافر روانگی سے قبل فضائی ٹکٹ خریدنے کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہوٹل، نقل و حمل اور دیگر سفری سہولیات کی بکنگ کر چکے ہوتے ہیں۔ مقررہ پرواز تک ویزا جاری نہ ہونے کی صورت میں ٹکٹ کی تاریخ تبدیل کرنے، منسوخی، پرواز پر حاضر نہ ہونے کے جرمانے اور بعض ناقابلِ واپسی ہوٹل و دیگر بکنگ اخراجات کی وجہ سے اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
عمرہ زائرین کو سفری سہولیات فراہم کرنے والے ایک نجی ادارے ویلورا ٹریولز اینڈ ٹورز پرائیویٹ لمیٹڈ نے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر، متعلقہ سعودی حکام اور وزارتِ مذہبی امور سے اپیل کی ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور بالخصوص سفارت خانے کو ارسال کی حالت میں زیرِ التوا رہنے والے عمرہ کیسز کے لیے واضح طریقۂ کار اور ممکنہ پراسیسنگ مدت سے آگاہ کیا جائے،ادارے نے سعودی ویزا بائیو ایپلی کیشن سے متعلق رپورٹ ہونے والے تکنیکی مسائل کا جائزہ لینے، بائیومیٹرک سہولیات کو مزید مؤثر بنانے اور ایسے زائرین کے معاملات پر ترجیحی توجہ دینے کی درخواست بھی کی ہے جن کی روانگی کی تاریخ قریب ہے۔بین الاقوامی فضائی نقل و حمل کی تنظیم آئی اے ٹی اےاور پاکستان کی سفری صنعت کی نمائندہ تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریول ٹریڈ کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں، کیونکہ ویزا اجرا میں غیر متوقع تاخیر کی صورت میں فضائی ٹکٹوں، گروپ بکنگ، ہوٹلوں کی پیشگی بکنگ اور مسافروں کے مالی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔



