ہندو طلبا کی غنڈہ گردی پرنسپل سے زبردستی استعفیٰ پر دستخط کرالئے

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں کالج کی مسلمان وائس پرنسپل کو 23محصور رکھ کر زبردستی کی گئی
محمدی ترنم کے جانے کے بعد ہندو طلبا گروپ نے ان کے کمرے میں اگربتیاں جلائیں‌اور گنگا چل چھڑکا
تنازعے کی وجہ طلبا کی غیر حاضریاں بتائی جاتی ہیں امتحان میں‌بیٹھنے کے لئے حاضریاں کافی نہیں‌ تھیں

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد ہندوتوا کے نت نئے مظاہر سامنے آنے لگے ہیں جن میں‌ روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’ جیو نیوز‘‘ کے مطابق کلکتہ میں سنگھ پریوار کی طلبہ تنظیم کے گروپ نے سریندر ناتھ کالج کی وائس پرنسپل اور ٹیچر ان چارج محمدی ترنم کو دن بھر محصور رکھ کر زبردستی استعفے پر دستخط کروالیے۔
بھارتی اخبار کے مطابق محمدی ترنم کو طلبا تنظیم اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ نے گھیر لیا اور انہیں ان کے کمرے میں 23 گھنٹے تک محصور رکھا، طلبہ اپنے ساتھ استعفی لے کر آئے تھے، جس پر ٹیچر سے زبردستی دستخط کرالیے۔ محمدی ترنم کے جانے کے بعد طلبہ کے گروپ نے ان کے کمرے میں داخل ہو کر اگربتیاں جلائیں اور گنگا جل چھڑکا۔
محمدی ترنم نے طلبہ کے حصار سے نکلتے ہی اعلیٰ حکام کو ای میل بھیجی کہ ان پر دباؤ ڈال کر استعفے پر دستخط لیے گئے۔
طلبہ اور ٹیچر کے درمیان تنازع کی اصل وجہ طلبہ کی غیر حاضری تھی، قانون کے طلبہ کو امتحانات میں بیٹھنے کے لیے 65 فیصد حاضری درکار ہوتی ہے اور بیشتر طلبہ یہ شرط پوری نہیں کر رہے تھے۔
ہائیر ایجوکیشن اتھارٹی نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ محمدی ترنم کے استعفیٰ کا خط منظور ہوا یا نہیں۔