دونوں ممالک میںسرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال،چینی انویسٹرز پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے پر اعتماد ہیں
چین میں اس وقت پاک چین بزنس فورم کے کے 22 دفاتر کام کر رہے ہیں، سابق سینٹرلیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر) پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے پاک چین بزنس فورم کے پلیٹ فارم سے ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد نے وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کا دورہ کیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی سیکریٹری برائے بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی نے کی، جس میں توانائی، بین الاقوامی تجارت، صنعتی خدمات، تعمیرات و ترقی، راک وول ٹیکنالوجی اور آٹو موبائلز کے شعبوں سے وابستہ چینی اداروں کے سربراہان، جنرل منیجرز اور منیجنگ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔
پاک چین بزنس فورم کی جانب سے چیف پیٹرن سابق سینٹرلیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، پیٹرن بریگیڈیئر (ر) سلطان محمود ستی، پیٹرن شیخ اعجاز اصغر اور دیگر نمائندگان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر فورم کے چیف پیٹرن نے کہا کہ پاک چین بزنس فورم کا قیام تقریباً دس سال قبل دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے اور کاروباری روابط مستحکم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت چین میں اس کے 22 دفاتر کام کر رہے ہیں، جہاں چینی شہری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی انویسٹرز پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے پر اعتماد ہیں۔
وفاقی سیکریٹری محی الدین احمد وانی نے چینی وفد اور پاک چین بزنس فورم کے نمائندگان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے 21 مئی 2026ء کو سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی، جو دونوں ممالک کے دیرینہ، مضبوط اور آزمودہ تعلقات کی عکاس ہے۔ پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ تعاون پر مبنی شراکت داری خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی قیادت اور وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثناء اللہ کی رہنمائی میں پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے مابین مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ترقی کے لیے سازگار مواقع فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
وفاقی سیکریٹری نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں توانائی، صنعت، سیاحت، تعمیرات اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے روابط نہ صرف دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی صنعت کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاک چین بزنس فورم کے پیٹرن شیخ اعجاز اصغر نے اجلاس کو بتایا کہ چینی سرمایہ کار زراعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ چائنیز کمپنی نے پاکستان میں لیتھیم بیٹریوں کی تیاری کے لیے ایک سیٹ اپ لگا دیا ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مقامی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ بعد ازاں پیداوار کو بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔ اس طرح کے منصوبے پاکستان کے درآمدی بل میں کمی، مقامی صنعتی صلاحیت میں اضافے اور مستقبل میں زرمبادلہ کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے افسران نے وفد کو پاکستان کے سیاحتی شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات، سیاحتی مقامات کی ترقی، اور دیگر کاروباری مواقع پر تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی۔ وفد کو پاکستان کے قدرتی حسن، ثقافتی ورثے اور سیاحتی استعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ منصوبوں کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان موجودہ دوستانہ تعلقات کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے کاروباری روابط کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے قابلِ عمل امکانات کا جائزہ لینے کے لیے رابطوں کو فروغ دیا جائے گا.



