سرکاری افسران کو یقینی بنانا چاہیے کہ عوامی پیسے کو ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ خرچ کیا جائے
وزیراعظم نے سرکاری خریداری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں، مقبول احمد گوندل
اسلام آباد(کامرس رپورٹر) آڈیٹر جنرل پاکستان مقبول احمد گوندل نے شفافیت کو فروغ دینے اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے سرکاری خریداری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری افسران کو یقینی بنانا چاہیے کہ عوامی پیسے کو ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ خرچ کیا جائے۔وہ آڈٹ ہاؤس اسلام آباد میں پبلک پروکیورمنٹ رولز اور ای پی اے ڈی ایس 2.0 (EPADS 2.0) کے موضوع پر منعقدہ تربیتی پروگرام کے پہلے بیچ کی تکمیل پر منعقدہ تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تربیتی پروگرام پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے اشتراک سے منعقد کیا۔
پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی (پی اے اے اے)، اسلام آباد کی جانب سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام میں پی پی آر اے کے ماہرین نے تکنیکی سیشنز پیش کیے۔ پروگرام کا مقصد سرکاری افسران کی پبلک پروکیورمنٹ کے قواعد و ضوابط، طریقہ کار اور الیکٹرانک پبلک پروکیورمنٹ ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS) 2.0 کے عملی استعمال سے متعلق استعداد کو بہتر بنانا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل پاکستان مقبول احمد گوندل نے کہا کہ سرکاری خریداری ہر سرکاری دفتر کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے عوامی پیسے کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے شفافیت اور احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سرکاری خریداری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کے تحت منعقدہ تربیتی پروگرام میں پروکیورمنٹ کے قواعد و ضوابط اور ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے تاکہ سرکاری اخراجات میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ اس تربیت کا مقصد سرکاری افسران کو یہ سکھانا ہے کہ عوامی پیسہ کس طرح خرچ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری فنڈز کو اسی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ خرچ کیا جانا چاہیے جس طرح کوئی شخص اپنی ذاتی رقم خرچ کرتے وقت کرتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ سرکاری پیسے میں کسی قسم کی خردبرد نہیں ہونی چاہیے اور سرکاری اخراجات کی مؤثر نگرانی کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق تربیت کا بنیادی مقصد شرکاء کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اداروں میں سرکاری فنڈز کو شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کر سکیں۔
وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے اس تربیتی پروگرام میں شرکت کرنے والے افسران سے کوئی فیس وصول نہیں کی جا رہی، جس سے متعلقہ سرکاری محکموں پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
تقریب سے پی پی آر اے کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر آڈیٹر جنرل پاکستان کے محکمہ (ڈی اے جی پی) کے سینئر افسران، پی پی آر اے کے ماہرین اور تربیتی پروگرام کے شرکاء بھی موجود تھے۔
تربیت میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری، وزارتِ تجارت، وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن)، وزارتِ غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ، وزارتِ اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ بحری امور، وزارتِ دفاع، نیشنل سکیورٹی ڈویژن، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، کابینہ ڈویژن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بینامی ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی سمیت مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اس تربیتی اقدام کو مزید وسعت دینے کے لیے وزارتوں اور ڈویژنز کو دوسرے بیچ کے لیے افسران نامزد کرنے کی دعوت دی گئی ہے، جو 3 سے 5 نومبر 2026ء تک منعقد ہوگا۔ پی اے اے اے کو آئندہ بیچ کے لیے اب تک تقریباً 40 نامزدگیاں موصول ہو چکی ہیں۔
پہلے بیچ کی کامیاب تکمیل پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی کے سرکاری شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ توقع ہے کہ یہ پروگرام سرکاری خریداری کے طریقہ کار میں بہتری، مالی نظم و ضبط کے فروغ اور سرکاری اداروں میں شفاف طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔



