
مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں مجاہدین اور فوج کے درمیان ایک اور جھڑپ میں ایک بھارتی فوج میجر سمیت چار فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ جھڑپ پلوامہ کے پنگلینا گاؤں میں پیر کی صبح ایک مکان کے اندر موجود مجاہدین کے ساتھ ہوئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران دو مجاہد بھی مشہید ہو گئے، جن میں سے ایک کے بارے میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ جمعرات ہونے والے بم حملے کا ’ماسٹر مائنڈ‘ تھا۔
پولیس کے ترجمان منوج کمار نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہدین کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملتے ہی فوج نے گاؤں کا محاصرہ کر لیا، تاہم ایک مکان میں چھپےمجاہدین نے فوجیوں پر فائرنگ کر دی۔
جس کے نتیجے میں میجر ڈی ایس ڈوندیال، ہیڈ کانسٹیبل سیو رام، سپاہی اجے کمار اور سپاہی ہری سنگھ مارے گئے جبکہ حملہ آور محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق اس جھڑپ میں اُس مکان کا مالک بھی ہلاک ہوگیا جہاںمجاہدین نے مبینہ طور پر پناہ لی تھی۔
گذشتہ دنوں ایل او سی کے قریب راجوری ضلع میں ایک بارودی دھماکے میں ایک فوجی میجر مارا گیا۔
اس سے قبل 14 فروری کو پلوامہ کے ہی لیتھ پورہ علاقے میں سرینگر تا جموں شاہراہ پر ایک خودکش کار بم دھماکے میں بھارت کی نیم فوجی سی آر پی ایف کے چالیس سے زیادہ اہلکار مارے گئے تھے، جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور بھارت کی کئی ریاستوں میں مقیم کشمیریوں کو ہراساں کیا گیا۔




